Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Shahadat ummate muslima ka mission
Shahadat ummate muslima ka mission

شہادت کے تصور میں تبدیلی

Urdu · 9 min

اسلام کے ابتدائی دور میں شہادت کا یہی تصور تھا جو اوپر بیان کیا گیا۔ اس زمانے میں شہادت کا لفظ گواہی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ جہاں تک اللہ کے راستے میں جان دینے کا معاملہ ہے، اس کے لیے معروف لغوی لفظ "قتل" استعمال ہوتا تھا، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٍ سورہ نمبر 2، آیت 154۔ یعنی "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں، ان کو مردہ مت کہو"۔

اس آیت کے مطابق اللہ کے راستے میں جان دینے والے کو "مقتول فی سبیل اللہ" کہا جائے گا۔ ایسے شخص کا اجر اللہ کے یہاں بلاشبہ بہت بڑا ہے، لیکن انسانی زبان میں اس کا ذکر ہوگا تو اس کو "مقتول فی سبیل اللہ" کہا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔ اس جنگ میں صحابہ میں سے 70 آدمی مارے گئے۔

صحیح البخاری میں اس کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4078۔ یعنی حضرت انس کہتے ہیں کہ احد کے دن اصحاب رسول میں سے 70 آدمی قتل ہوئے۔ رسول اللہ کے بعد صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسلام میں مستند زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں یہی طریقہ رائج تھا۔

بعد کے زمانے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ جس طرح دوسری تعلیمات میں تبدیلی آئی، اسی طرح شہادت کی اصطلاح میں بھی تبدیلی آئی۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے یہ حال ہوا کہ شہادت بمعنی دعوت کا تصور امت کے ذہن سے حذف ہو گیا۔ اس کے بجائے شہادت اور شہید کا لفظ جانی قربانی، یعنی مارٹیڈم کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ بعد کے زمانے میں یہ رواج عام ہو گیا کہ اس قسم کے افراد کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ شامل کیا جانے لگا۔

مثلاً حسن البنہ شہید، سید قطب شہید، سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید وغیرہ۔ اصحاب رسول میں بہت سے لوگوں کے ساتھ جانی قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا، لیکن کسی کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ شامل نہیں کیا گیا۔ مثلاً عمر ابن الخطاب شہید، عثمان ابن عفان شہید، علی ابن ابی طالب شہید، سعد ابن معاذ شہید وغیرہ۔ صحابہ کا نام ہمیشہ ان کے آبائی نام کے ساتھ لکھا اور بولا گیا، نہ کہ شہید کے اضافے کے ساتھ، جیسا کہ بعد کے زمانے میں رائج ہوا۔

چنانچہ محدث البخاری نے اپنی کتاب میں اس نوعیت کی کچھ روایات کے اوپر یہ باب قائم کیا ہے: بابٌ لَا يَقُولُ فُلَانٌ شَهِيدٌ كتابُ الجِهَادِ والسَّيرِ یہ سادہ بات نہیں ہے، بلکہ اسلام کے ایک اہم اصول پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ لوگوں کو ان کے آبائی نام کے ساتھ پکارا جائے۔ وَدُعُوهُمْ لِأَبَائِهِمْ هُوَ أَقْصَتُ عِنْدَ اللَّهِ سورہ نمبر 33، آیت 5۔ یعنی "ان کو ان کی آبائی نسبت سے پکارو"۔

یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ نام کے ساتھ شہید یا اس طریقے کے دوسرے الفاظ کا اضافہ کرنا اشخاص کے بارے میں غیر واقعی ذہن بنانے والا عمل ہے۔ یہ طریقہ اسلامی آداب کے مطابق نہیں۔ شہادت اور شہید کے معاملے میں یہ غیر اسلامی طریقہ موجودہ زمانے میں اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان تشدد کا جو طریقہ رائج ہوا، اس کا اصل سبب یہی ہے۔ جو لوگ اس متشددانہ عمل میں ہلاک ہوتے ہیں، ان کو بطور خود شہید اور شہداء کا ٹائٹل دیا جاتا ہے، اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مرنے کے بعد فوراً جنت میں داخل ہو گئے۔ یہ معاملہ اپنی عمومی صورت میں نوآبادیات، یعنی کلونیلزم کے دور میں رائج ہوا۔ اس دور میں مغربی قوموں نے مسلم علاقوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔

اس دور میں مغربی قوموں نے مسلم علاقوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد اس دور کے مسلم مقررین اور محررین کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عام طور پر ان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہو گیا۔ یہ ردعمل پہلے نفرت کی شکل میں جاری ہوا، اس کے بعد بتدریج اس نے تشدد کی صورت اختیار کر لی۔ اس متشددانہ عمل کو مقدس بنانے کے لیے کہا گیا کہ جو لوگ اس مقابلے میں مارے جائیں، وہ شہید ہوں گے اور بلا حساب اور بلا حساب کتاب فوراً جنت میں داخل ہو جائیں گے۔

یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ مسئلہ تھا جس کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری قوموں کے خلاف اس منفی ردعمل کی آخری تباہ کن صورت وہ ہے جو موجودہ زمانے میں خودکش بمباری، یعنی سوسائیڈ بمبنگ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ اس خودکش بمباری کو مقدس بنانے کے لیے کچھ علماء کی طرف سے غلط طور پر اس کو استشہاد، یعنی طلب شہادت کا ٹائٹل دے دیا گیا۔ اب حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں شہادت کے نام پر اپنی جانیں دے رہے ہیں، لیکن شہادت کے اصل کام دعوت الی اللہ کو انجام دینے کی تڑپ کسی کے اندر نہیں۔

نہ مسلم علماء کے اندر، نہ مسلم عوام کے اندر۔ شہادت کے اس خود ساختہ تصور کے تحت وہ جن لوگوں پر حملے کرتے ہیں، وہ ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں، اور مدعو کو ہلاک کرنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.