Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Shahadat ummate muslima ka mission
Shahadat ummate muslima ka mission

امتِ وسط

Urdu · 4 min

امتِ محمدی کی اس ذمہ داری کو قرآن کی سورہ نمبر 2 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطَى لِتَكُونُوا شُهَدَاءً عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا البقرہ آیت 143۔ یعنی: "اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا" Thus, we have made you a middle nation, so that you may act as witnesses for mankind, and the Messenger may be a witness for you. امتِ وسط کا مطلب بیچ کی امت، یعنی مڈل امہ ہے۔ یعنی امتِ محمدی کی حیثیت خاتم النبیین اور بعد کی انسانی نسلوں کے درمیان بیچ کے نمائندے کی ہے۔

اللہ کے دین کو خاتم النبیین سے لینا، اور اس کو بعد کی نسلوں تک کسی اجرت کی امید کے بغیر قیامت تک پہنچاتے رہنا۔ اس پہنچانے کا مطلب صرف اعلان، یعنی اناؤنسمنٹ، نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ اس کو قولِ بلیغ سورہ نمبر 4 آیت 63 کی زبان میں پہنچایا جائے۔ یعنی ایسے اسلوب میں جو لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قرآن کی اس تعلیم کے مطابق، موجودہ دنیا ہمیشہ کے لیے دارالدعویٰ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

اس کے مطابق نبوتِ محمدی اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو نسبت ہے، وہ صرف ایک ہے: وہ یہ کہ امت کی حیثیت شاہد کی ہے، اور دوسرے انسانوں کی حیثیت مشہود، یعنی سورہ نمبر 85 آیت 3 کی۔ اس نسبت کو دوسرے الفاظ میں داعی اور مدعو کی نسبت کہا جا سکتا ہے۔ امتِ محمدی کی اس دعوتی ذمہ داری کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ صحیح البخاری، حدیث نمبر 2642۔ یعنی اہلِ ایمان زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔

شہادت کا یہ کام خالص پیغمبرانہ طریقے پر انجام دینا ہے۔ یہ ایک خدائی کام ہے، جس میں کسی سیاسی یا قومی یا مادی مقصد کو شامل کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کام میں کسی اور مقصد کو شامل کیا جائے تو وہ قرآن کے الفاظ میں رکون ہوگا، جو انسان کو اللہ کے یہاں سخت مواخذے کا مستحق بنا دیتا ہے۔ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ سورہ نمبر 11 آیت 113۔

یعنی: "اور ان کی طرف نہ جھکو جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے"۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.