آپ کو جب تک طاقت رہی آپ برابر مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھاتے رہے۔ سب سے آخری نماز مغرب کی نماز تھی۔ جس کے چار روز بعد آپ کا انتقال ہوا۔ عشاء کے وقت آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔ جواب ملا کہ وہ آپ کے منتظر ہیں۔ آپ نے متعدد مرتبہ اٹھنے کی کوشش کی لیکن شدت مرض کی وجہ سے آپ اٹھ نہیں پاتے تھے۔ آخر آپ نے فرمایا کہ ابو بکر کو میری طرف سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ حضرت ابو بکر نے نماز پڑھائی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.