Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

عام الوفود

Urdu · 5 min read

10ھ

قبائل کے وفود کی آمد8ھ میں ہی شروع ہوگئی تھی تاہم فتح مکہ کے بعد9ھ اور10ھ میں کثرت سے اس قسم کے وفد مدینہ آئے۔ اسی وجہ سے ان دونوں سالوں کو عام الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔ یہاں ان وفود میں سے کچھ اہم وفود کا ذکر کیا جاتا ہے۔

وفد ہوازن فتح مکہ کے بعد یہ پہلا وفد ہے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں کل چودہ آدمی شامل تھے جن میں آپ کے رضاعی چچا بھی شامل تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ اسی قبیلہ کی تھیں۔ ان لوگوں نے اس نسبت سے کہ آپ اسی قبیلہ کے لوگوں کی گود میں پلے بڑھے ہیں آپ سے شفقت و مروت کی درخواست کی۔ اور اس موقع پر کچھ اشعار بھی پڑھے۔ آپ نے ان کے ساتھ عزت کا معاملہ فرمایا۔

وفد ثقیف رمضان9ھ میں ثقیف کا ایک وفد اسلام قبول کرنے اور بیعت کرنے کے لیے مدینہ آیا۔ یہ وہی لوگ تھے جو محاصرۂ طائف کے موقع پر قلعہ بند ہوگئے تھے۔ اب انہوں نے آپ کی اطاعت قبول کرلی۔

قبیلہ ثقیف کامعاملہ دوسرے قبائل سے مختلف تھا۔ جب بیعت کا وقت آیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایمان لائیں گے لیکن ان کے اوپر صدقہ نہیں ہوگا اور ان کے اوپر جہاد نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیعت لے لی۔ بعض صحابہ نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا جب وہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے تو اس کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے(سیرۃ ابن کثیر،جلد4، صفحہ 56)۔ چنانچہ اس کے بعد ایسا ہی ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وفد عبدالقیس عبدالقیس ایک بہت بڑا قبیلہ تھا جو بحرین میں آباد تھا۔ اس وفد نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے ایسا جامع عمل بتا دیں کہ جس سے وہ جنت کے مستحق ہو سکیں۔ آپنے فرمایا اللہ پر ایمان لائو۔ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ادا کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وفد نجران9ھ میں نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد آپ کی خدمت میں آیا جس میں ساٹھ آدھی تھے۔ ان میں سے چودہ آدمی ان کے اشراف اور سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے اس وفد کو مسجد نبوی میں اتارا۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ کچھ دیر بعد جب ان کی نماز کا وقت ہوا تو ان لوگوں نے اپنی نماز پڑھنی چاہی۔ اس پر بعض صحابہ معترض ہوئے اور انہیں روکا۔ مگر آپ نے فرمایا پڑھنے دو۔ چنانچہ انہوں نے مشرق کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ان لوگوں سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی۔ جس میں خاص طور پر عیسیٰ کی الوہیت اور ابنیت خدا کا مسئلہ غالب رہا۔ان پر حق واضح ہوگیا۔ مگر دیدہ و دانستہ اتباع حق سے انکار کیا۔ قرآن میں سورہ آلِ عمران کی ابتدائی آیتیں اسی موقع پر نازل ہوئیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حجۃ الوداع

9ھ میں خانۂ کعبہ مراسم جاہلیت سے پاک ہو چکا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فریضۂ حج کو خود عملی طور پر ادا کریں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ کر حج کے مناسک اور احکام جان لیں۔

ذی قعدہ9ھ میں آپ نے سفر حج کا ارادہ کیا۔ اطراف واکناف میں منادی کرا دی گئی کہ رسول اللہ اس سال حج کرنے والے ہیں۔ چنانچہ25ذی قعدہ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ صحابہ کی کثیر جماعت تھی جوایک لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل تھی۔4 ذوالحجہ کو آپ مکہ میں داخل ہوئے اور مناسکِ حج ادا فرمایا۔ بعدازاں میدان عران عرفات میں ایک طویل خطبہ دیا۔ حمد و ثنا کے بعد فرمایا

اے لوگو، جو میں کہتا ہوں اس کو سنو۔ شاید اگلے سال تم سے ملنا نہ ہو۔ اے لوگو، تمہاری جانیں اور آبرو اوراموال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ جیسا کہ یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہے۔ جاہلیت کے تمام امور میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ اور جاہلیت کے تمام خون میں معاف کرتا ہوں۔ سب سے پہلے ربیعہ بن حارث کا خون جو بنی ہذیل پر ہے اس کو میں معاف کرتا ہوں۔ جاہلیت کے تمام سود ساقط ہیں۔ تمہارے لیے صرف رأس المال ہے۔ سب سے پہلے اس سلسلہ میں میں عباس بن عبدالمطلب کا ربا ساقط کرتا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے زوجین کے باہمی تعلقات اور حقوق سے متعلق ہدایات دیں۔ پھر فرمایا کہ میں تمہارے درمیان ایسی محکم چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ یہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آگے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا’’قیامت کے دن تم سے میرے متعلق سوال ہوگا۔ تم کیا جواب دو گے‘‘۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے ہم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ خدا کی امانت ادا کر دی اورامت کی خیر خواہی کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار انگشت شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اللَّهُمَّ ‌اشْهَدْ (اے اللہ تو گواہ رہ)مسند احمد، حدیث نمبر1309۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ خطبہ سے فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے ظہر کی اذان دی۔ ظہر اورعصر دونوں نمازیں ایک ہی وقت میںادا کی گئیں۔ بعدازاں آپ خدائے تعالیٰ کی حمد و ثنا اور شکر و استغفار میں مشغول ہوگئے۔ اسی اثناء میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ (5:3)یعنی،آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کر دیا۔ اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔ اور دین اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا۔

Qur'anQuotes the Qur'an

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں بھی اسی قسم کا خطبہ دیا۔ چونکہ رسول اللہ نے اس حج کے خطبے میں فرمایا تھا کہ شاید تم سے آئندہ ملاقات نہ ہو‘‘۔ اس لیے اس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ آخر ذی الحجہ میں مدینہ کے لیے واپسی ہوئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content