Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۂ بنی قریظہ

Urdu · 2 min read

ذی قعدہ5ھ

غزوہ خندق کے خاتمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن بنی قریظہ پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ بنی قریظہ پر چڑھائی کا اصل سبب ان کی غداری تھی۔ بنی قریظہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ جب قریش دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو بنی قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کو توڑ کر قریش کے ساتھ مل گئے۔ جب غزوہ احزاب میں ان کو شکست ہوئی تو بنی قریظہ قلعوں میں گھس گئے۔ آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ جتنی جلد ممکن ہو بنو قریظہ کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص بنی قریظہ کی بستیوں تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے۔پھر حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بنی قریظہ کا محاصرہ کیا۔ پچیس روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا۔ طویل محاصرہ کے بعد آخر کار بنو قریظہ اس بات پر آمادہ ہوئے کہ رسول اللہ جو حکم دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ آپ نے ان کو یہ پیغام دیا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا فیصلہ تم ہی میں کا ایک شخص کر دے۔ انہوں نے کہا یارسول اللہ سعد بن معاذ جو فیصلہ کر دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ چنانچہ سعد بن معاذ کو بلایا گیا اور آپ نے کہاکہ اے سعد ان لوگوں نے اپنا فیصلہ تمہارے سپرد کیا ہے۔ حضرت سعد نے تورات کے مطابق، یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے قتل کئے جائیں اور عورتیں اور بچے غلام بنا لیے جائیں، اور ان کا تمام مال و اسباب مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content