Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

واقعۂ افک

Urdu · 1 min read

واقعۂ افک اسی سفر میں پیش آیا۔ حضرت عائشہ اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ واپسی میں لشکر نے مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک مقام پر قیام کیا۔ حضرت عائشہ قضاء حاجت کے لیے لشکر سے دور چلی گئیں۔ جب لوٹنے لگیں تو ہار ٹوٹ کر گر گیا جس کو تلاش کرنے میں دیر ہوگئی۔ اس اثناء میں لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ ہودج کے پردے گرے ہوئے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ محمل میں ہیں۔اس لیے وہ محمل کو اونٹ پر رکھ کرروانہ ہوگئے۔ جب حضرت عائشہ واپس آئیں تو یہاں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اسی جگہ چادر لپیٹ کر لیٹ گئیں۔

صفوان بن معطل جو قافلہ کی گری پڑی چیزوں کے اٹھانے کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ حسب معمول وہاں آئے۔ انہوں نے حضرت عائشہ کو پہچان لیا۔ انہوں نے اناللہ و اناالیہ راجعون پڑھا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیںوَاللهِ ‌مَا ‌كَلَّمَنِي ‌كَلِمَةً، وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ ‌اسْتِرْجَاعِهِ(مسند احمد، حدیث نمبر 25623)۔ یعنی، خدا کی قسم، صفوان نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے ان کی زبان سے سوا’ان للہ‘ کے کوئی اور کلمہ سنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت صفوان نے اپنا اونٹ لا کر حضرت عائشہ کے قریب بٹھایا۔ حضرت عائشہ اس پرسوار ہوگئیں اور حضرت صفوان نکیل پکڑ کر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ بقیہ مسلمانوں سے مل گئے۔ جب منافقین کو اس کی خبر ہوئی تو وہ تہمت کی باتیں پھیلانے لگے۔

اس واقعہ نے مدینہ میں فتنہ کی شکل اختیار کر لی۔ آخر کار حضرت عائشہ کی برأت میں سورہ النور کی آیتیں نازل ہوئیں اور یہ ہنگامہ ختم ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content