Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۂ مُریسیع یا بنی المصطلق

Urdu · 1 min read

شعبان5ھ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ حارث بن ابی ضرار سردار بنی المصطلق نے ایک بڑی فوج جمع کی ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمی کو تحقیق حال کے لیے روانہ کیا۔ بریدہ نے آ کر بیان کیا کہ خبر صحیح ہے۔ آپ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا۔

صحابہ فوراً تیار ہوگئے۔ تیس گھوڑے ساتھ لیے جس میں سے دس مہاجرین کے اور بیس انصار کے تھے۔ مدینہ میں زید بن حارثہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نیز ام سلمہ کو ساتھ لیا۔ اور جا کر ان سے مقابلہ آرا ہوئے۔ مسلمانوں کو اس میں فتح حاصل ہوئی۔

اس موقع پر یہ واقعہ پیش آیا کہ دوران سفر پانی کے ایک چشمے پر مہاجر وانصار کے درمیان جھگڑا چھڑ گیا۔ چنانچہ مہاجر نے یاللمہاجرین اور انصار نے یاللانصار کہہ کر اپنے اپنے لوگوں کو پکارا۔ رسول اللہ نے جب یہ آوازیں سنیں تو فرمایا، یہ جاہلیت کی نسبی آوازیں کیسی۔ لوگوں نے صورتحال سے آپ کو باخبر کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایادَعُوهَا ‌فَإِنَّهَا ‌مُنْتِنَةٌ (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 18041)۔ یعنی، ان باتوں سے باز آ جائو کیوں کہ یہ گندی اور بدبودار ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content