Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۃ ذات الرقاع

Urdu · 1 min read

جمادی الاولیٰ4ھ

غزوۃ بنو نضیر کے بعد ربیع الاول سے لے کر شروع جمادی الاولیٰ تک آپ مدینہ میں مقیم رہے۔ شروع جمادی الاولیٰ میں آپ کو یہ خبر ملی کہ بنی محارب اور بنی ثعلبہ آپ کے مقابلہ کے لیے لشکر جمع کر رہے ہیں۔ آپ چار سو صحابہ کی جمعیت کے ساتھ نجد کی طرف روانہ ہوئے، جب آپ وہاں پہنچے تو قبیلہ غطفان کے کچھ لوگ ملے، مگر لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صلاۃ الخوف پڑھائی۔ بن سعد کہتے ہیں کہ ذات الرقاع ایک پہاڑ کا نام ہے جہاں آپ نے اس غزوہ میں قیام کیا تھا۔ اس لیے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع پڑ گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سایہ دار درخت کے نیچے آرام کیا اور تلوار درخت سے لٹکا دی۔ ایک مشرک آیا اور تلوار لے کر کھڑا ہوگیا۔ اور آپ سے پوچھا کہ اے محمد، تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا، اللہ۔ اس کے بعد اس نے تلوار رکھ دی۔ اب آپ نے تلوار لے کر کہا تم کو مجھ سے کون بچائے گا وہ گھبرا گیا۔ آپ نے اس کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے کہاکہ اب میں آپ کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوں گا۔ بعد کو اس نے اسلام قبول کر لیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content