Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۃ بنی نضیر

Urdu · 2 min read

ربیع الاول4ھ

عمر بن امیہ ضمری جب بئر معونہ سے واپس ہو رہے تھے تو راستہ میں بنی عامر کے دو مشرک ساتھ ہو لیے۔ وہ مقام قناۃ میں پہنچ کر ایک باغ میں ٹھہرے۔ جب وہ دونوں سو گئے تو عمر بن امیہ ضمری نے انتقاماً دونوں کو قتل کر دیا اور مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے ہمارا عہد ہے ان کی دیت دینا ضروری ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بنی نضیر بھی چونکہ بنی عامر کے حلیف تھے۔ اس لیے ازروئے معاہدہ دیت کا کچھ حصہ جو بنی نضیر کے ذمہ بھی واجب الادا تھا۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے۔ بنونضیر نے بظاہر خندہ پیشانی سے جواب دیا اور دیت میں شرکت کا وعدہ کیا۔ لیکن آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ایک شخص چھت پر چڑھ کر اوپر سے ایک بھاری پتھر گرا دے تاکہ آپ دب کر ہلاک ہو جائیں۔

ابھی آپ بیٹھے ہی تھے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ ان کی سازش سے باخبر کیا گیا۔ آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ تشریف لے گئے۔ اور بنو نضیر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ عبداللہ بن ام مکتوم کومدینہ کا عامل مقرر کرکے بنو نضیر کی طرف روانہ ہوئے اور جا کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنونضیر نے اپنے قلعوں میں گھس کر دروازے بند کر لیے۔ اس طرح بنو نضیر کی غداری اور بدعہدی کی بناء پر آپ نے ان پر حملہ کا حکم دیا۔ اور پندرہ روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا اور ان کے باغوں اور درختوں کے کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا بالآخر وہ امن کے طلب گار ہوئے۔

آپ نے فرمایا دس دن کی مہلت ہے مدینہ خالی کر دو۔ اپنے اہل وعیال بچوں اور عورتوں کو جہاں چاہو لے جائو۔ سوا سامان جنگ کے جس قدر سامان اونٹوں اور سواریوں پر لے جا سکتے ہو اس کی اجازت ہے۔ یہود کے ساتھ یہ معاملہ ان کی مقدس کتاب تورات کے مطابق کیا گیا کیوں کہ تورات میں غداری کی سزا جلاوطنی بتائی گئی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content