Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Seerat-e-Rasool
Seerat-e-Rasool

غزوۃٔ غطفان

Urdu · 1 min read

محرم3ھ

محرم3ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر ملی کہ بنی ثعلبہ اور بنی محارب نجد میں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ اطراف مدینہ میں چھاپہ ماریں اور سامان لوٹیں۔ دعشور غطفانی ان کا سردار تھا۔ یہ خبر سن کر آپ نے صحابہ کی ایک جمعیت کے ساتھ غطفان کی طرف کوچ کیا اور مدینہ میں عثمان بن عفان کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ اس وقت آپ کے ہمراہ چار سو پچاس صحابہ تھے۔ قبیلہ غطفان کے یہ لوگ آپ کے آنے کی خبر سن کر منتشر ہو کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ صرف ایک شخص ہاتھ آیا۔ صحابہ نے پکڑ کراس کو آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے اس کو نصیحت کی اور اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔

صفر کا پورا مہینہ آپ نے اسی علاقہ میں گزارا۔ لیکن کوئی شخص مقابلہ پر نہ آیا۔ آپ پرامن طور پر مدینہ واپس آگئے۔

اس سفر سے واپسی میں آپ ایک موقع پر ایک درخت کے نیچے تنہا لیٹ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس وقت مشرکین میں سے ایک ادھر سے گزرا۔ وہ آپ کو اکیلا دیکھ کر آپ کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تلوار تھی۔ اس نے کہاکہ اے محمد، تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس کے بعداس نے تلوار رکھ دی اور آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ اب بتائو کہ تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔اس نے کہاکہ آپ بہتر تلوار لینے والے ہیں( کنت خیر آخذ) آپ نے اس سے یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ کبھی آپ کے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.