Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-171)

Urdu · 4 min

سوال: الرسالہ جون 2002 میں آپ کا مضمون "اصل سبب جہالت" پڑھا، میرے نزدیک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمانوں کے اوپر جو کچھ بیت رہا ہے اس کا اصل سبب صرف جہالت ہے۔ آپ کی اس قسم کی بے موقع تشریحات سے آپ کے مخالفین کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ آپ کو غیر ضروری طور پر بدنام کریں۔ ورنہ آپ کی مثبت فکر کے نتائج خاطرخواہ برآمد ہو سکتے تھے۔ کسی بھی تبصرے کے وقت حالات کا تناظر پیش رہنا چاہیے۔

ایک عالمِ دین اور ایک مصلح کی حیثیت سے آپ کے لیے مقامِ غور و فکر تھا کہ ایسے نازک حالات میں کس قسم کی بات کی جائے کہ مسلمانوں کو اپنے زخم خوردہ دلوں پر کوئی پھاہا محسوس ہوتا۔ مخصوص حالات کے کچھ مخصوص تقاضے بھی ہوتے ہیں، جن کو ملحوظ رکھنا علماء کا ہی تو کام ہوتا ہے۔ خالد خان خواہی، حیدرآباد۔ جواب: اس معاملے میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی دل پسند باتیں کہہ کر ان کے درمیان مقبولیت حاصل کی جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ قرآن و سنت کی رہنمائی کے مطابق ان کے مسائل کا حل کیا ہے۔

گہرے مطالعے کے بعد ہم نے جانا ہے کہ قرآن و سنت کی رہنمائی تمام تر احتسابِ خویش پر مبنی ہے، نہ کہ احتسابِ غیر پر۔ دوسروں کے اوپر ذمہ داری ڈالنا غیر اسلامی طریقہ ہے، اور خود ذمہ داری قبول کرنا اسلامی طریقہ۔ مکی دور میں 13 سال تک رسول اور اصحابِ رسول کو ہر طرح ستایا گیا۔ اس معاملے میں خدا کی طرف سے جو ہدایت دی گئی وہ صرف یہ تھی کہ تم ان کی ایذاؤں پر صبر اور اعراض کرو۔

سورہ ابراہیم، آیت 12۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو قرآن میں خود مسلمانوں سے کہا گیا کہ تم اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرو۔ آل عمران، 152۔ غزوہ حنین میں مسلمانوں کو مشرکین کی جارحیت کا شکار ہونا پڑا، اس وقت بھی ایک طرفہ طور پر مسلمانوں کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی۔

التوبہ، 25۔ حدیبیہ کے موقع پر مشرکین نے شدید حمیتِ جاہلیہ کا مظاہرہ کیا، مگر مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ردِعمل سے بچتے ہوئے ایک طرفہ طور پر متقیانہ روش اختیار کریں اور مشرکین کی شرائط پر صلح کر کے مدینہ واپس چلے جائیں۔ الفتح، 26۔ قرآن و سنت کا مطالعہ یقینی طور پر بتاتا ہے کہ مسائل کے مقابلے میں اسلام کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ فریقِ ثانی کی سازشوں کا انکشاف کیا جائے۔

شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کر کے یہ ثابت کیا جائے کہ سارا قصور صرف فریقِ ثانی کا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ سرتاسر مظلوم اور بے قصور ہیں۔ اس قسم کی روش قومی شریعت میں درست ہو سکتی ہے، مگر وہ خدائی شریعت کے مطابق سراسر بے معنی ہے۔ خدائی شریعت کے مطابق کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ اپنے حصے کی غلطی کو معلوم کیا جائے اور اس کی اصلاح کی جائے۔

مسئلے کا حل اپنی غلطی کی اصلاح میں ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتیوں کا اعلان کرنے میں۔ اسلام کا نقطہ نظر نتیجہ رُخی، یعنی رزلٹ اورینٹڈ ہے۔ اسلام کا طریقہ دل کی بھڑاس نکالنا نہیں۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 171۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.