Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-143)

Urdu · 3 min

سوال: میں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے، کشمیر میں میں ایک سرکاری سروس کے لیے درخواست دی تھی۔ میں اس کے لیے کوالیفائیڈ تھا، میں اس کے لیے کوالیفائیڈ تھا، مگر مجھ کو نہیں لیا گیا۔ اب یہاں کے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ جب تک کشمیر کے سیاسی حالات نہیں بدلیں گے، ہمارے ساتھ ناانصافی ہوتی رہے گی۔ ہم کو لڑ کر اپنے حقوق لینا ہے، کشمیر سے غیر مسلم غلبے کو ختم کرنا ہے۔

اس کے بعد ہی ہم کو اپنے حقوق مل سکتے ہیں۔ ایک کشمیری نوجوان: اننت ناگ۔ جواب: یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ آپ کے ساتھی جو کشمیر چاہتے ہیں، وہ انہیں بروقت ہی آزاد کشمیر میں مل چکا ہے۔

پھر آزاد کشمیر کے ہزاروں مسلمان کیوں وہاں سے نکل کر برطانیہ اور امریکہ میں چلے گئے، اور وہاں غیر مسلم سیاسی غلبے کے تحت پرسکون طور پر زندگی گزار رہے ہیں؟ اسی طرح آپ لوگ جو مسلم حکومت چاہتے ہیں، وہ زیادہ بڑے پیمانے پر پاکستان میں عملاً حاصل ہو چکی ہے۔ پھر پاکستان کے لاکھوں مسلمان کیوں امریکہ اور یورپ میں جا کر غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ زندگی گزار رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ دوہرے معیار کی اسی پالیسی نے اس پورے علاقے، اس پورے علاقے کے مسلمانوں کو اللہ کی نظر میں بے قیمت بنا دیا ہے۔

اس قسم کی ڈبل پالیسی سے اس دنیا میں کسی کو ذلت تو مل سکتی ہے، مگر اس کو عزت نہیں ملے گی۔ جہاں تک آپ کے ذاتی مسئلے کا تعلق ہے، تو اس قسم کی وقتی ناکامی موجودہ دنیا میں فطرت کے قانون کے تحت ہوتی ہے، نہ کہ کسی کے تعصب کے تحت۔ اس دنیا میں ہر ایک کے ساتھ اور ہر ملک میں ناموافق حالات پیش آتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر ہرگوند کھورانا کو لیاقت کے باوجود دہلی یونیورسٹی میں سروس نہیں ملی۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ ناموافق حالات سے مایوس نہ ہو، اور بہتر مستقبل کی طرف اپنا حوصلہ مندانہ سفر جاری رکھے۔ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ جہاں تک لڑ کر حقوق لینے کی بات ہے، وہ سراسر بے معنی ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ اس دنیا میں کسی کو بھی لڑ کر اپنے حقوق نہیں ملتے۔

اس دنیا میں جب بھی کسی کو اس کے حقوق ملتے ہیں تو وہ پرامن تعمیری جدوجہد کے ذریعے ملتے ہیں۔ پاکستان میں مہاجرین نے لڑ کر اپنے حقوق لینا چاہے، مگر آخر میں انہیں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 143۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.