Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-142)

Urdu · 3 min

سوال: الرسالہ جولائی 2001 کے صفحہ 33 تا 35 میں آپ نے اکبر کی خود ساختہ پالیسی کو "تالیفِ قلب" کی گہری پالیسی قرار دیا ہے، اور اس کی یہ وجہ بتائی ہے کہ اکبر نے اسے اسلام کی اشاعت میں برہمنوں کے ذریعے پیدا کی گئی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اختیار کیا تھا۔ لیکن اس متنازع فی واقعے کو آپ نے قرآن و سنت سے مدلل کرنے کے بجائے محض مولانا سید حسین احمد مدنی کی مجتہدانہ نظر سے مدلل کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ ہمارے نزدیک اکبر کا یہ اقدام اپنے سیاسی انٹرسٹ کی خاطر تھا، نہ کہ اسلام کی خاطر۔ آپ کی اس بحث سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اگر مسلمان، یا کوئی مسلم حکومت، خالص مصلحتاً ہندوؤں یا غیروں کی چند بے ضرر رسومات کو اپنے یہاں رائج کر لے تو یہ عین دین کی خدمت ہوگی۔

بالفاظِ دیگر، غیروں کی طرح مخصوص وضاحتیں اختیار کرنا، دیوالی میں قندیلیں جلانا، ہولی میں رنگوں سے کھیلنا، کسی اچھے کام کا آغاز ناریل توڑ کر کرنا وغیرہ جیسی بے ضرر رسمیں، نہ صرف مسلمانوں کے لیے وقتی طور پر جائز ہو جاتی ہیں بلکہ وہ ضروری ہو جاتی ہیں۔ محمد اقبال انجینئر، ایم اے صدیقی، فاروق فیصل، محمد رفیع چوغلے، ممبئی۔ جواب: "تالیفِ قلب" دعوتِ اسلامی کا ایک مستقل اصول ہے، یعنی محدود دائرے میں مدعو کی وقتی رعایت کرنا جس سے وہ اسلام کی طرف مائل ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اس کا واضح ثبوت ملتا ہے۔

مثلاً ہجرت کے بعد آپ نے 16 تا 17 مہینے تک یہودیوں کے قبلے کو اپنا قبلۂ عبادت بنائے رکھا۔ اس کا سبب یہی "تالیفِ قلب" کا حکم تھا (تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ 150)۔ اکبر کا مذکورہ عمل اسی "تالیفِ قلب" کی بنا پر تھا۔ نیز یہ کہ اس معاملے میں اکبر تنہا نہیں؛ ہندوستان کے صوفیاء نے اسی "تالیفِ قلب" کے اصول کے تحت کئی طریقے اپنی خانقاہوں میں رائج کیے، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ ملک کے لاکھوں باشندوں نے اسلام قبول کر لیا۔

اکبر نے جو طریقہ اختیار کیا، اگر بالفرض اس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کی توسیع و اشاعت سے اس کی سلطنت کو استحکام حاصل ہوگا، تب بھی اس کا فعل قابلِ ملامت نہیں۔ اگر بالفرض ایسا ہو تو ہم صرف یہ کریں گے کہ اکبر کے فعل کو اس حدیثِ رسول کا مصداق قرار دیں گے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ الرسالے کے مذکورہ شمارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اس کا مقصد ہرگز نہیں کہ مسلمان ہندوؤں کے رسوم کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیں۔ یہ مکمل طور پر ایک دعوتی بات ہے۔ اس کا تعلق صرف دعوتی مصالح سے ہے۔

کلچرل سمجھوتے کا میں ہرگز مبلغ نہیں ہوں؛ میں صرف دعوتی مقصد کے لیے "تالیفِ قلب" کی بات کرتا ہوں۔ "تالیفِ قلب" بلاشبہ اسلام کا ایک مسلم اصول ہے۔ ہندوستان کے صوفیاء نے اس کو بڑے پیمانے پر اختیار کیا۔ صوفیاء کی دعوتی کامیابی کا خاص سبب ان کی یہی پالیسی تھی۔

کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 142۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.