Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

(Page-50)

Urdu · 2 min

سوال: الرسالہ میں 1999 پڑھا، اس میں ایک مضمون "جنتی کون" کے عنوان سے ہے۔ اس میں آپ لکھتے ہیں کہ جنتی انسان وہ ہے جس نے دنیا ہی میں آخرت کا تجربہ کیا، جس نے آخرت میں خدا کو براہِ راست دیکھنے سے پہلے اسی دنیا میں اس کو بالواسطہ طور پر دیکھا۔ صفحہ 4۔ اس جملے کی وضاحت مطلوب ہے: دنیا میں خدا کو بالواسطہ طور پر دیکھنے سے کیا مراد ہے؟

عبدالسلام، جامعہ دارالسلام، عمرآباد۔ جواب: خدا کو بالواسطہ دیکھنے سے مراد وہی چیز ہے جس کو حدیث میں "تعبد اللہ كأنك تراه" البخاری کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے؛ میں نے صرف اس کو قابلِ فہم بنانے کے لیے نئے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ایک ہے خدا کی ذات کو دیکھنا، دوسرے ہے خدا کی آیت اور آلہ کے ذریعے خدا کو پہچاننا۔

پہلے معنی میں صرف آخرت میں کسی کو خدا کا مشاہدہ حاصل ہوگا، دوسرے معنی میں یہ تجربہ اسی دنیا میں گزرتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں: دنیا میں آدمی گویا کہ خدا کو دیکھتا ہے، اور آخرت میں وہ خدا کو حقیقی طور پر دیکھے گا۔ پہلا، دیکھنا بالواسطہ طور پر دیکھنا ہے، اور دوسرا، دیکھنا براہِ راست طور پر دیکھنا۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 50۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.