سوال: جہاد کشمیر کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ یہ کوئی اسلامی تحریک بھی ہے یا نہیں؟ پیر محمد امین، تُرہ گام، کشمیر۔ جواب: میرے علم کے مطابق یہ اور اس قسم کی دوسری مسلح تحریکیں قومی لڑائی ہیں، نہ کہ اسلامی جہاد۔
اسلام میں جہاد بمعنی قتال کوئی انفرادی یا جماعتی عمل نہیں ہے؛ وہ مکمل طور پر ریاست کا ایک عمل ہے۔ فقہ کا ایک متفقہ مسئلہ ہے کہ الرحیل للامام یعنی کسی قوم کے خلاف جنگ کا اعلان کرنا حاکم کا کام ہے۔ اس قسم کی موجودہ جنگیں حکومتوں کی طرف سے نہیں لڑی جا رہی ہیں، بلکہ انفرادی اشخاص بطور خود یہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک غیر اسلامی فعل ہے۔
مزید یہ کہ کوئی مسلم حکومت اگر اس قسم کی کسی تحریک کو خفیہ مدد پہنچائے تو اس بنا پر وہ اسلامی جہاد نہیں ہو جائے گا؛ اس حکومت کو کھلے طور پر اس کا اعلان کرنا پڑے گا۔ اعلان کے بغیر خفیہ جنگ چھیڑنا بذاتِ خود جائز نہیں۔ کتاب: سوال و جواب، جلد اول، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 20۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.