Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Sawal-o-jawab(Jild Awwal)
Sawal-o-jawab(Jild Awwal)

Dibacha.

Urdu · 4 min

دیباچہ: زیرِ نظر کتاب "راقم الحروف" کی اُن تحریروں کا مجموعہ ہے جو "ماہ نامہ الرسالے" میں سوال و جواب کے کالم کے تحت چھپتے رہے ہیں۔ اس مجموعے کو برادران استفعالی صاحب نے کولکتہ ٹیم کے تعاون سے تیار کیا ہے، اور کولکتہ ٹیم اپنے اہتمام کے ساتھ اس کو شائع کر رہی ہے۔ ان لوگوں کی یہ کوشش بلاشبہ ایک مستحسن کوشش ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کولکتہ ٹیم کو اس کام کے لیے جزائے خیر عطا فرمائے، اور اس کے پڑھنے والوں کے لیے یہ مجموعہ اُن کی زندگی کے لیے مفید ثابت ہو۔

آمین۔ سوال و جواب کا طریقہ بہت قدیم طریقہ ہے۔ یہ طریقہ اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتا ہے: سوال کرنے والے کے لیے بھی اور جواب دینے والے کے لیے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سوال و جواب ایک باہمی تعلّم، یعنی میوچول، کا طریقہ ہے۔

اس طریقے میں سائل اور مجیب دونوں کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مزید مطالعے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کریں، وہ زیرِ بحث مسئلے کے نئے گوشوں کو دریافت کریں۔ اس طرح یہ طریقہ طرفین کے لیے فکری ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈویلپمنٹ، کا ذریعہ ہے۔ اسلام میں سوال کے بجائے تدبر و تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسیٰ جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا: فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ سورہ نمبر 18 آیت 70۔

یعنی "تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا"۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلے غور و فکر کرو۔ غور و فکر کر کے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال و جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن، پریپیئرڈ مائنڈ، بنا چکا ہو۔

اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ایک صحابی کہتے ہیں: وَعَنْ كَثْرَةِ السُّوَالِ مسند احمد، حدیث نمبر 1823۔ یعنی رسول اللہ نے ہم کو زیادہ سوال سے منع کیا تھا۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے خود سوال کے تقاضے کو پورا کرے، اس کے بعد وہ سوال کرے۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور و فکر کرے۔

اس طرح اس کو ذہنی ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈویلپمنٹ، کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ صلاحیت غور و فکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔

وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ، یعنی گراسپ، کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کر سکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر سکتا ہو۔ مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا: سوال کیوں کرتے ہو؟

اگر تمہارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کر کے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فوراً سوال کرنا عجلت پسندی کی علامت ہے۔ بات کو سن کر پہلے غور و فکر کرنا چاہیے۔

اگر غور و فکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی توجہ اس پر ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے۔ وحید الدین، نئی دہلی، 4 جنوری 2017۔ کتاب "سوال و جواب" جلد اول، صفحہ نمبر 1۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.