Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Roze ka taalluq puri zindagi se.

Urdu · 2 min

روزے کا تعلق پوری زندگی سے۔ رمضان کے مہینے کا روزہ کسی قسم کی سالانہ رسم، یعنی annual custom نہیں؛ وہ ایک زندہ تخلیقی عمل، یعنی creative process ہے۔ روزے کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ روزے کا مقصد دراصل یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی روزہ رُخی زندگی، یعنی روزہ oriented life بن جائے۔

روزے کی اصل حقیقت خواہشات، یعنی desires پر روک لگانا ہے۔ اسی کو حدیث میں "یدعَ شهوتَهُ" یعنی خواہش کو چھوڑنا بتایا گیا ہے۔ پیاس ایک خواہش ہے، بھوک ایک خواہش ہے، نیند ایک خواہش ہے۔ معمول کے مطابق زندگی گزارنا ایک خواہش ہے۔

روزے کے مہینوں میں ان سب خواہشوں پر قانوناً روک لگائی جاتی ہے، تاکہ آدمی اسی طرح اپنی دوسری خواہشوں پر ارادتاً روک لگائے: وہ خود اپنے فیصلے کے تحت ایک پابند زندگی گزارنے لگے۔ انسان کی زندگی میں جتنے بھی اعمال ہیں، ان سب میں 50-50 کا تناسب ہے۔ یعنی 50% کسی چیز سے رکنا ہے، اور اس کا 50% کسی چیز پر عمل کرنا۔ اسلامی شریعت میں "الا اللہ" سے پہلے "لا الہ" آتا ہے۔

منفی اور ایجابی پہلو کا یہی تناسب تمام دینی اعمال میں پایا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی تمام خواہشات پر بریک لگائے، تاکہ وہ اس دنیا میں اپنے آپ کو مطلوب اعمال پر قائم کر سکے۔ تمثیل کی زبان میں کہا جائے تو روزے کی حیثیت انسانی زندگی میں انجن میں لگے ہوئے بریک جیسی ہے۔ بریک گاڑی کے انجن کو قابو میں رکھتا ہے، اسی لیے گاڑی درست طور پر اپنا سفر طے کرتی ہے۔

اگر کسی انجن میں بریک نہ ہو تو انجن درست طور پر کام نہیں کرے گا۔ یہی معاملہ مومن کی زندگی میں روزے کا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ روزے کو اپنی زندگی میں بریک کا مقام دے، تاکہ وہ خدا کے راستے پر درست طور پر اپنا سفر طے کر سکے۔ اسی آدمی کا روزہ حقیقی روزہ ہے، جس کا روزہ اس کے لیے ممنوعاتِ خداوندی کے مقابلے میں بریک کے ہم معنی بن جائے۔

کتاب "صوم رمضان"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.