Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Rozedarana zindagi.

Urdu · 3 min

"روزے دارانہ زندگی" ایک فارسی شاعر نے روزہ اور رمضان کے بارے میں اپنے تجربات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: روزے کا مقصد لوگوں کے اندر ریاضت کا مزاج پیدا کرنا تھا، مگر رمضان آیا تو ریاضت کے بجائے لوگوں کے یہاں کھانے پینے کی دھوم میں اور اضافہ ہو گیا۔ تن پروریِ خلق فضو شد، نہ ریاضت جز گرمیِ افطار، نہ دارت رمضان ہیچ۔ رمضان کے مہینے میں یہ منظر ہر جگہ دکھائی دیتا ہے؛ مشرق اور مغرب، اور عرب اور عجم کے درمیان اس معاملے میں کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ رمضان کا مہینہ کھانے پینے کی مزید سرگرمیوں کا مہینہ بن گیا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ صرف ان لوگوں کے لیے روزے کا مہینہ بن جاتا ہے جو سال بھر روزے دارانہ زندگی، یعنی روزہ اورینٹڈ لائف، گزار رہے ہوں۔ جو لوگ سال کے بقیہ مہینوں میں غیر روزے دار بنے ہوئے ہوں، ان کے درمیان جب رمضان کا مہینہ آئے گا تو وہ اسی کلچر میں اضافے کا سبب بنے گا جس کلچر میں وہ اس سے پہلے زندگی گزار رہے تھے۔ آج کل لوگوں کی زندگی کا مقصد یہ بن گیا ہے کہ خوب کماؤ اور اچھے اچھے کھانے کھاؤ۔

یہی تقریباً تمام لوگوں کی سوچ ہے، اور یہی عملی طور پر لوگوں کا کلچر ہے۔ اسی قسم کی زندگی کے وہ پوری طرح عادی بنے ہوئے ہیں، اور اس کے سوا زندگی کے کسی اور پیٹرن کو جانتے ہی نہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کے درمیان رمضان کا مہینہ آتا ہے تو وہ ان کے کھانے پینے کے کلچر کی ایک توسیع کے ہم معنی ہوتا ہے۔ رمضان ان کے اسی ذوق میں مزید اضافہ کر دیتا ہے جس کے وہ اب تک عادی بنے ہوئے تھے۔

یہی سبب ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو وہ ان کے لیے صرف افطار اور سحری کی دھوم کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ اس لیے آتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر سادگی اور قناعت کا مزاج پیدا ہو، لوگوں کا اشتغال انسانوں کے درمیان کم ہو، اور اللہ کے ساتھ ان کے تعلق میں اضافہ ہو جائے۔ مگر عملاً یہ سب نہیں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ سال بھر روزے دارانہ زندگی گزاریں، وہی رمضان کے مہینے میں سچے روزے دار بنیں گے۔

کتاب "صوم رمضان" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.