Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Roza aur taravih.

Urdu · 2 min

روزہ اور تراویح: حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قراءة القرآن في الصلاة أفضل من قراءة القرآن في غير الصلاة» البیہقی، جلد 2، صفحہ 413۔ یعنی نماز کے بغیر قرآن پڑھنے کے مقابلے میں نماز کی حالت میں قرآن پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ تراویح کیا ہے؟ تراویح یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں حالتِ نماز میں کھڑے ہو کر قرآن کو سنا جائے؛ یہی تراویح کی اصل حقیقت ہے۔

اور حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت سے اس طریقے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تراویح کا عام رواج نہ تھا، بعد کے زمانے میں تراویح کا رواج بڑھ گیا۔ نہ صرف عرب میں، بلکہ ساری دنیا میں عشاء کی نماز کے بعد تراویح کی نماز بڑے پیمانے پر پڑھی جانے لگی۔ تراویح کے اس عمومی رواج کا ایک مزید سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں حفاظتِ قرآن کی سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ گئیں۔

لوگ بہت زیادہ قرآن کو یاد کرنے لگے۔ اس ماحول میں فطری طور پر ایسا ہوا کہ رمضان کی راتوں میں تراویح کے دوران پورے قرآن کو پڑھنے اور سننے کا عمومی رواج ہو گیا۔ اس طرح ایسا ہوا کہ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے تراویح، قرآن کی حفاظت کا ایک مؤثر ذریعہ بنی رہی۔ تراویح میں یہ ہوتا ہے کہ ایک حافظِ قرآن، امام کی جگہ پر کھڑا ہو کر مختلف رکعتوں میں بلند آواز کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے۔

اور تمام مقتدی امام کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور وہ خاموشی کے ساتھ قرآن کو سنتے ہیں۔ قرآن کو سنتے ہوئے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا ذہن قرآن کے معانی پر سوچنے لگتا ہے۔ اس طرح تراویح گویا کہ اجتماعی تدبرِ قرآن کا ایک طریقہ ہے۔ تراویح کو اگر صرف ایک سالانہ رسم کے طور پر نہ ادا کیا جائے، بلکہ اس کو قرآن پر اجتماعی غور و فکر کا موقع سمجھا جائے، تو تراویح، امت کے اندر قرآنی فکر کی بیداری کا ایک انقلابی ذریعہ بن جائے۔

کتاب «صوم رمضان» مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.