Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Roza aur quran.

Urdu · 3 min

روزہ اور قرآن۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو رمضان کے مہینے میں اتارا، البقرہ آیت 185۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں اور رمضان کے مہینے میں خصوصی مناسبت ہے۔ رمضان کے مہینے میں روزے کے عمل کے ذریعے رزقِ مادی کی اہمیت کو ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔

روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر رزقِ مادی کے بارے میں حقیقی شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ قرآن انسان کے لیے رزقِ روحانی کا دسترخوان ہے۔ القرآن معدوبة الله في الأرض قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ انسان رزقِ روحانی کی اہمیت کو محسوس کرے اور قرآن سے دریافت کر کے اس کو وہ اپنی زندگی میں شامل کرے۔ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن میں تدبر کر کے اپنا ذہنی تزکیہ کرے۔

رمضان میں پورے مہینہ روزہ رکھا جاتا ہے اور ذکر و عبادت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس طرح رمضان کا مہینہ پورے معنوں میں ایک روحانی مہینہ بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تلاوت کرنا، تراویح میں قرآن کو سننا، مختلف سورتوں میں قرآن کا چرچا کرنا، یہ چیزیں لوگوں کو یہ موقع دیتی ہیں کہ وہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن سے قریب ہوں۔ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کو سمجھیں۔

رمضان کا مہینہ تاریخی اعتبار سے قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، اور تربیت کے اعتبار سے وہ قرآن کو اپنے دل و دماغ میں اتارنے کا مہینہ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لا يمسه إلا المطهرون سورہ الواقعہ آیت 79۔ اس آیت میں تلاوت قرآن کے لیے وضو کا مسئلہ بیان نہیں ہوا ہے، بلکہ یہاں فہمِ قرآن کے لیے تطہیرِ نفس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اس آیت کی صحیح تشریح وہ ہے جو امام راغب الاصفہانی، وفات 1108 عیسوی، نے کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں: إنه لا يبلغ حقائق معرفته إلا من طهر نفسه المفردات في غريب القرآن یعنی صرف وہ شخص قرآن کے حقائق کا ادراک کر سکے گا جو اپنے نفس کی تطہیر کرے۔ صرف فنی مہارت قرآن کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ اور روزہ اسی تطہیرِ نفس کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ کتاب: صوم رمضان مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.