Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Roza ko chodna.

Urdu · 2 min

روزے کو چھوڑنا۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْسَتٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلَّهُ وَإِنْ صَامَهُ». الترمذی، کتاب الصوم، باب الافطار متعمداً۔ یعنی جو شخص رمضان کے دنوں میں کسی دن روزہ ترک کر دے، جبکہ اس کے لیے کوئی شرعی عذر اور بیماری نہ ہو، تو اس کے بعد خواہ وہ ساری عمر روزے رکھے، وہ اس کے لیے رمضان میں چھوڑے ہوئے روزے کا بدل نہیں ہو سکتا۔

رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی اہمیت یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ اس کا حکم دیا ہے۔ ایسی حالت میں رمضان کے کسی ایک روزے کو بھی قصداً چھوڑنا، اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد آدمی اگر ساری عمر روزہ رکھے تو وہ اس کے اپنے فیصلے کے تحت ہوگا، نہ کہ براہِ راست حکمِ خداوندی کی تعمیل میں۔ اور بلاشبہ کوئی بھی دوسرا عمل، خدا کے حکم کی قصداً خلاف ورزی کی تلافی نہیں بن سکتا۔

اس دنیا میں پانی کا جو ذخیرہ ہے، اس کی ایک ایک بوند کا مالک خدا ہے۔ اس دنیا میں مختلف قسم کی جو غذائیں ہیں، ان کا غیر مشترک مالک بھی صرف ایک خدا ہے۔ اس قسم کی تمام چیزیں جو دنیا میں موجود ہیں، ان کو پیدا کرنے والا بھی خدا ہے، اور یہ بھی خداوند ذوالجلال ہی ہے جو یہ تمام چیزیں انسان کو عطا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں جب خدا خود یہ حکم دے کہ فلاں مہینے کے دنوں میں تم میرا پانی اور میری پیدا کی ہوئی غذائیں استعمال نہیں کرو گے، تو یہ انسان کی انسانیت کے سرتاسر خلاف ہے کہ وہ رزق کے خالق و مالک کی ممانعت کے باوجود، اس کے دیے ہوئے رزق کا ایک دانہ بھی استعمال کرے۔

حکمِ خداوندی کی ایسی خلاف ورزی کے بعد انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں بے جگہ بنا لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ انسان کی سطح سے گر کر غیر انسان کی سطح پر آ جاتا ہے۔ کتاب صوم رمضان، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.