Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Qaule zoor,Amale zoor.

Urdu · 3 min

قال زور عمل زور۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه." صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب "من لم يدع قول الزور والعمل به"۔ یعنی جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑ دے۔ روزہ بظاہر مخصوص اوقات میں کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام ہے، مگر کھانے اور پینے کا یہ ترک ایک علامتی ترک، یعنی symbolic abstinence ہے۔

روزے کے مہینے میں چند چیزوں کو چھوڑ کر روزے دار اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ خدا کی منع کی ہوئی تمام چیزوں کو چھوڑ دے۔ گویا کہ ترک طعام اگر جسمانی روزہ ہے تو ترک منحیات روحانی روزہ۔ جس آدمی کی زندگی میں ترک طعام ہو لیکن اس کی زندگی میں ترک منحیات نہ ہو، تو اس کا روزہ خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ پانے والا نہیں۔ دین میں دو قسم کی تعلیمات شامل ہیں: ایک وہ جن میں کسی چیز کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور دوسرے وہ جن میں کسی چیز کے چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

روزہ ترک منحیات والی تعلیم کے لیے تربیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزے کے مہینے میں وقتی طور پر کچھ چیزوں کے ترک کا حکم دے کر یہ سبق دیا جاتا ہے کہ اسی طرح پورے سال دوسری تمام منحیات کو ترک کر دینا۔ اس کے بغیر دین کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ ان منحیات یعنی prohibitions میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو حدیث میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا کہا گیا ہے۔

جھوٹ بولنا یہ ہے کہ آدمی کسی چیز کے بارے میں خلافِ واقعہ بیان دے، مثلاً وہ رات کے وقت کو دن کا وقت بتائے۔ اسی طرح جھوٹ پر عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی ایک غلط کام کرے اور وہ اس کو خلافِ واقعہ طور پر صحیح کا نام دے۔ وہ اپنے ذاتی interest کے لیے ایک کام کرے اور لوگوں کو بتائے کہ میں یہ کام خالص حق کے لیے کر رہا ہوں۔ جو لوگ اس طرح کے جھوٹ میں مبتلا ہوں، ان کا روزہ خدا کے یہاں قابلِ رد قرار پائے گا، نہ کہ قابلِ قبول۔

کتاب صوم رمضان، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.