Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Haqeeqate saum.

Urdu · 2 min

حقیقتِ صوم: قرآن اور حدیث میں روزے کے لیے "صوم" کا لفظ آیا ہے۔ صوم کے لفظی معنی ہیں رکنا، یعنی obstinance، کسی چیز سے پرہیز کرنا۔ انسان جیسی مخلوق کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ انسان کا معاملہ 50% رکنا ہے اور 50% کرنا۔

آدمی جب ایک غیر مطلوب چیز سے رکتا ہے، اسی وقت وہ ایک مطلوب کام کو کر پاتا ہے۔ یہی وہ ضروری استعداد ہے جس کی تربیت انسان کو روزے کے ذریعے دی جاتی ہے۔ مثلاً توحید کو لیجیے: انسان جب غیر اللہ کو بڑا بنانے سے اپنے کو روکتا ہے، اس کے بعد ہی اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو اپنا بڑا بنا سکے۔ انسان جب غیر پیغمبرانہ رہنمائی کو چھوڑتا ہے، اس کے بعد ہی وہ پیغمبرانہ رہنمائی کو قبول کرتا ہے۔

انسان جب قرآن کے سوا دوسری کتابوں کے غیر مستند ہونے کو دریافت کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ قرآن کو مستند ہدایت نامے کی حیثیت سے اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح انسان جب شیطان کی صحبت کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اپنے آپ کو فرشتوں کی صحبت کے قابل بناتا ہے۔ انسان جب اپنی خواہش کی پیروی کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ مرضیاتِ الٰہی کی پیروی کے قابل بنتا ہے۔ انسان جب اپنے اندر سے فخر و غرور کے مزاج کو ختم کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ تواضع یعنی modesty کے مزاج کا حامل بنتا ہے۔

انسان جب اپنے مال میں اسراف سے پرہیز کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ سادگی اور قناعت کے طریقے کو اپناتا ہے۔ انسان جب غیر ذمہ دارانہ روش کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ سنجیدگی اور متانت کی روش کو اپنی روش بنا سکے۔ ترک و اختیار کا یہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طریقے کو اختیار کیے بغیر کوئی شخص اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔

روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی spirit پیدا کرنا مقصود ہے۔ جو آدمی ترک کے اس اصول کو نہ مانے، وہ اختیار کی سعادت کا تجربہ بھی نہیں کر سکتا۔ کتاب "صومِ رمضان" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.