Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Rahmate ilahi ka mustahiq kaun.

Urdu · 2 min

رحمتِ الٰہی کا مستحق کون؟ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا دخل شهر رمضان فُتِحَت أبواب السماء، وفي رواية فُتِحَت أبواب الجنة، وغُلِّقَت أبواب جهنم، وسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ، وفي رواية فُتِحَت أبواب الرَّحْمَةِ. صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب "ہل یقال رمضان"۔ یعنی جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اس حدیث میں جنت اور جہنم، یا شیاطین کی نسبت سے جو بات کہی گئی ہے، وہ دراصل تمثیل کی زبان، یعنی symbolic language میں ہے۔ کلام کا اصل مقصود وہی ہے جس کو "فُتِحَت أبواب الرَّحْمَةِ" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یعنی رحمت کے دروازوں کا کھل جانا، یا رحمتِ خداوندی کے حصول کے مواقع میں اضافہ ہو جانا۔ رمضان کے مہینے کے یہ فوائد جو اس حدیث میں بیان کیے گئے ہیں، وہ پراسرار طور پر خود بخود مل جانے والے فوائد نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری طرح معلوم فوائد ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں اگر اس کی مطلوب spirit کے ساتھ روزہ رکھا جائے تو ایسا روزہ آدمی کے لیے ان فوائد کے حصول کا سبب بن جاتا ہے جن کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا۔ یعنی روزے دار کے اندر ان صفات کا پیدا ہونا جو اس کو خدا کی رحمت کا مستحق بنا دے۔ اس کے برعکس جو لوگ صرف فارم کے اعتبار سے روزہ رکھیں، ان کا روزہ اس حدیثِ رسول کا مصداق ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ کچھ روزے دار وہ ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔ كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعِ وَالْعَطْشِ.

النسائی، ابن ماجہ، کتاب "صوم رمضان"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 17۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.