Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Saum-e- Ramazan
Saum-e- Ramazan

Roza aur dua.

Urdu · 3 min

روزہ اور دعا۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: وإذا سألك عبادي عني فإني قريب، أجيب دعوة الداع إذا دعانِ، فليستجيبوا لي وليؤمنوا بي لعلهم يرشدون. البقرہ آیت 186۔ یعنی جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جبکہ وہ مجھے پکارتا ہے۔

تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانے اور مجھ پر یقین رکھے، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ دعا کسی قسم کے متعین الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں؛ دعا دراصل دل کی پکار کا نام ہے۔ جب کسی انسان کے دل میں اعلیٰ ربانی جذبات پیدا ہوں اور وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگے، تو یہی وہ چیز ہے جس کو اسلام میں دعا کہا گیا ہے۔ اس قسم کی دعا اس انسان کے اندر سے نکلتی ہے جو دل شکستگی کے تجربے سے دوچار ہو۔

اور روزے کی مشقت آدمی کو اسی دل شکستگی کا تجربہ کراتی ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ مطلوب نوعیت کی سچی دعا کر سکے۔ حقیقی دعا وہ ہے جس میں عجز کا تجربہ شامل ہو جائے۔ خدا انسان کے بالکل قریب ہے، وہ ہر لمحہ انسان کے قریب رہتا ہے۔

لیکن اس قربتِ الہی کا تجربہ صرف اس انسان کو ہوتا ہے جو عاجزانہ روح کے ساتھ اللہ کو پکارے۔ حقیقی روزہ آدمی کو اسی عجز اور عبدیت کا تجربہ کراتا ہے۔ اس طرح سچا روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خدا کی قربت کا تجربہ کرے، وہ حقیقی معنوں میں خدا سے دعا کرنے والا بن جائے۔ سچی دعا وہ ہے جس کے ساتھ سچا عمل شامل ہو۔

سچے عمل سے مراد مطابقِ دعا عمل ہے۔ سچی دعا اور سچے عمل کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جس آدمی کو خدا کی سچی قربت ملے، وہ یقیناً ایک باعمل انسان بن جائے گا۔ اور باعمل انسان ہی وہ انسان ہے جس کی دعا اللہ تک پہنچتی ہے اور قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔

جس دعا کے ساتھ مطابقِ دعا عمل شامل نہ ہو، وہ دعا قابلِ رد ہے، نہ کہ قابلِ قبول۔ کتاب "صوم رمضان" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 11۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.