Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

ایک تجارتی راز

Urdu · 2 min read

محلہ میں کئی مسلم ہوٹل ہیں۔ میں دس سال سے ان کو دیکھ رہا ہوں۔ مگر ان میں صرف ایک ہوٹل ایسا ہے جو اس مدت میں مسلسل ترقی کرتا رہا ہے۔ باقی تمام ہوٹل جہاں دس سال پہلے تھے وہیں آج بھی پڑے ہوئے ہیں۔ ترقی کرنے والے ہوٹل کے مالک سے میں نےایک روز پوچھا کہ آپ کی ترقی کا راز کیا ہے۔’’بالکل سادہ‘‘انھوں نے جواب دیا’’جو چیز دوسرے ہوٹل والے کلو میں خریدتے ہیں اس کو ہم بوروں میں خریدتے ہیں۔ ہر خریداری کے وقت ہم پورے بازار کو دیکھتے ہیں اور جو چیز جہاں کفایت سے ملتی ہے اس کو وہاں سے لیتے ہیں۔ زیادہ مقدار اور نقد خریداری کی وجہ سے چیز ہم کو اور بھی سستی پڑ جاتی ہے‘‘ اس کے بعد انھوں نے ہنس کر کہا ’’ گاہک سے نہیں کمایا جاتا، بازار سے کمایا جاتا ہے‘‘۔

عام طور پر دکان داروں کا یہ حال ہے کہ جو گاہک سامنے آجائے بس اس کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسے نکال لینے کو دکان داری سمجھتے ہیں۔ یہ دکان داری نہیں لوٹ ہے اور جس دکان دار کے بارے میں مشہور ہو جائے کہ وہ ’’لوٹتا ہے‘‘۔ اس کے یہاں کون خریداری کے لیے جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے دکان دار زیادہ ترقی نہیں کر پاتے۔ دکان داری کا زیادہ اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ مال کی خریداری کے وقت آپ کوشش کریں کہ آپ کو کم قیمت میں مال ملے تا کہ عام نرخ سے گاہک کو دینے کے بعد بھی آپ کو زیادہ فائدہ حاصل ہو۔

یہ اصول ہر قسم کے کاروبار کے لیے صحیح ہے۔ ہر کاروبار میں ایسا ہوتا ہے کہ دکان دار اپنے گاہک کے ہاتھ جو چیز بیچتا ہے اس کو وہ خود کہیںسے خرید کر لاتا ہے۔ یہ خریداری خواہ ایک مرحلہ میں ہو یا کئی مرحلوں میں۔ اس کی ہمیشہ کئی صورتیں ہیں۔ اکثر دکان دار مشقت اور دوڑ بھاگ سے بچنے کے لیے کسی آسان یا قریبی ذریعہ سے اپنی ضرورت کا سامان حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر دوڑ بھاگ کی جائے اور محنت سے کام لیا جائے تو وہ چیز نسبتاً کم قیمت میں حاصل کی جا سکتی ہے، جس کو دوسرا شخص محنت سے بچنے کی خاطر زیادہ قیمت میں حاصل کر رہا ہے۔

عام دکان دار ہمیشہ اپنی محنت کی کمی کو گاہک کی جیب سے زیادہ وصول کر کے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس قسم کی تجارت کبھی آدمی کو بڑی ترقی تک نہیں پہنچاتی۔ بہترین تجارتی گُر یہ ہے کہ گاہک کو ممکن حد تک مناسب نرخ پر چیزیںفراہم کی جائیں اور گاہک کے ہاتھ تک پہنچنے سے پہلے کا جو مرحلہ ہے اس میں زیادہ سے زیادہ کمانے کی کوشش کی جائے۔ زیادہ کمائی بازار سے کی جائے،نہ کہ گاہک سے۔ (17 اگست 1980)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.