← Raz e HayatRaz e Hayat
معلومات نہیں ذہنی رجحان
Urdu · 4 min read
نوبل انعام کا حصول،سائنس کی دنیا میں ، اعلیٰ ترین کارکردگی کا ایک مسلمہ معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ انعام کسی کو کیسے حاصل ہوتا ہے۔ کیمسٹری کے نوبل انعام یافتہ ایچ۔ اے۔کرئیبز (H. A. Krebs)نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سائنس دان بننے کے لیے اعلیٰ سازو سامان والی لیبارٹریوں اور جدید ترین لٹریچر پر مشتمل لائبریریوں سے بھی کہیں زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ کچھ مدت کے لیے کسی بڑی سائنسی شخصیت کی صحبت و رفاقت میسر آجائے۔ ’’اگر مجھے اپنی جوانی کے ابتدائی چار سال ‘‘ وہ لکھتا ہے ’’آٹوواربرگ (Otto Warburg)جیسے سائنس دان کی رفاقت میسر نہ آتی تو میرے اندر سائنس کا صحیح ذوق پیدا ہونا محال تھا۔ ‘‘
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کریبز مختلف بڑے سائنس دانوں کے اقوال پیش کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اعلیٰ سائنس دانوں کی صحبت جو سب سے بڑی چیز کسی کو دیتی ہے وہ سائنسی حقائق اور سائنسی طریقوں کے بارے میں معلومات کا انبار نہیں ہے۔ یہ دونوں چیزیں تو ہر جگہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ جو بات حقیقی فرق پیدا کرتی ہے، وہ دراصل فیضان نظر ہے جسے استاد اپنے شاگرد کو منتقل کرتا ہے۔ یہی فیضان نظر، جس کو وہ عمومی سائنسی روح(General Scientific Spirit)کا نام دیتا ہے، کسی شخص کو سچا سکالر بناتا ہے۔ وہ لکھتا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک عظیم استاد یا سائنس دان اپنے شاگرد کے ذہن میں حقائق کے بارے میں معلومات سے کہیں زیادہ ایک ذہنی رویہ(Attitude)منتقل کرتا ہے— اس ذہنی رویہ میں دو باتیں بالخصوص بہت اہم ہیں۔ ایک عجز(Humility) دوسرا شوق (Enthusiasm)‘‘
عجز اور شوق دو سب سے بڑے زینے ہیں جن سے گزر کر آدمی اونچی ترقی کی منزل تک پہنچتا ہے۔ شوق آدمی کو اکساتا ہے کہ وہ کہیں رکے بغیر اپنا سفر جاری رکھے۔ شوق آدمی کے اندر تجسس کا جذبہ ابھارتا ہے جس کی وجہ سے وہ چیزوں کی حقیقت جاننے کی کرید میں رہتا ہے۔ تا ہم جستجو کا شوق ہی کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ عجز بھی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ عجز کا مطلب ہے اپنے آپ کو حقیقت اعلیٰ سے کم سمجھنا۔ ایسا آدمی غلطی معلوم ہوتے ہی فوراً اس کا اعتراف کر لیتا ہے۔ وہ کسی بات کو ماننے سے کبھی اس لیے نہیں رکتا کہ اس کی وجہ سے اس کا وقار کم ہو جائے گا۔ وہ حق کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے،نہ کہ کسی اور چیز کو۔
ایک کے بعد دوسرا
مسافر اسٹیشن پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کی ٹرین جا چکی ہے۔ اس کی گھڑی صحیح نہ تھی اس لیے وہ دس منٹ لیٹ ہو گیا۔ اتنی دیر میں ٹرین آکر چلی گئی۔’’بابوجی، فکرنہ کیجئے‘‘قلی نے کہا’’دو گھنٹے بعد ایک اور گاڑی آ رہی ہے، اس سے آپ چلے جائیں۔ اتنی دیر پلیٹ فارم پر آرام کر لیجئے‘‘۔ مسافر نے قلی کا مشورہ مان لیا اور دو گھنٹہ انتظار کے بعد اگلی ٹرین پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہر مسافر جانتا ہے کہ ایک ٹرین چھوٹ جائےتو جلدبعد ہی دوسری ٹرین مل جاتی ہے جس سے وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ یہ پلیٹ فارم کا سبق ہے۔ مگر اکثر لوگ اس معلوم سبق کو اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ زندگی کی دوڑ میں ایک موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ پہلی بار ناکامی سے دو چار ہونے کے بعد وہ مایوس ہو جاتے ہیں یا احتجاج و فریاد کے مشغلہ میں لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لیے نیا منصوبہ بنائیں، وہ ’’اگلی ٹرین‘‘سے چل کر اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔
ایک شخص جس سے آپ کی مخالفت ہو گئی ہو اور ٹکرائو کا طریقہ جس کو’’درست‘‘کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہو، آپ اس کے بارے میں اپنا رویہ بدل دیجئے۔ اس کو نرمی کے طریقہ سے متاثر کرنے کی کوشش کیجئے۔ عین ممکن ہے کہ پرانے طریقے نے جس کو آپ کا دشمن بنا رکھا تھا، نئے طریقہ کے بعد وہ آپ کا ایک کارآمد دوست ثابت ہو۔ آپ کہیں ملازم ہیں اور وہاں آپ کی ملازمت ختم کر دی جاتی ہے۔ آپ اس کے پیچھے نہ پڑئیے بلکہ دوسرے کسی میدان میں اپنے لیے ذریعہ معاش تلاش کرنے کی کوشش کیجئے۔ ہو سکتا ہے کہ نیا کام آپ کے لیےپہلے سے زیادہ نفع بخش ثابت ہو۔ کوئی آپ کا حق نہیں دیتا۔ اس سے آپ کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ سالوں گزر جاتے ہیں اور آپ اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ آپ اس کا خیال چھوڑ دیجئے اور اپنی محنت پر بھروسہ کیجئے۔ بہت ممکن ہے کہ اپنی محنت کو کام میں لا کر آپ خود وہ چیز حاصل کر لیں جس کو آپ دوسروں سے مانگ کر پانا چاہتے تھے۔
زندگی کے بیشتر مسائل تنگ نظری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے ذہن میں وسعت پیدا کر لے تو اس کو معلوم ہو کہ یہاں سفر کے لیے ایک سے زیادہ’’گاڑیاں‘‘موجود ہیں— جو چیز وہ مقابلہ آرائی کے ذریعہ حاصل نہ کر سکا اس کو وہ باہمی جوڑ کے ذریعہ حاصل کر سکتا تھا۔ جہاں حقوق طلبی کا طریقہ مقصد تک پہنچانے میں ناکام رہا وہاں وہ محنت کا طریقہ اختیار کر کے اپنی منزل تک پہنچ سکتا تھا۔ جن لوگوں کی باتوں پر مشتعل ہو کر وہ ان پر قابو نہ پا سکا، وہ ان کی باتوں پر صبر کر کے انھیں جیت سکتا تھا۔