Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Raah-e-Amal
Raah-e-Amal

ازادانہ تحقیق کا نتیجہ

Urdu · 3 min read

آزادانہ تحقیق کا نتیجہ

قدیم زمانے میں مذہب کو صرف تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔ لوگوں کے ذہنوں پریہ تصور چھایا ہواتھاکہ مذہبی عقائد اس سے بلند ہیں کہ ان کو کسی جانچ اور بحث کا موضوع بنایاجائے۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنس کے زیر اثر جو فکری انقلاب آیا ہے، اس نے تحقیق (inquiry) کو سب سے زیادہ اونچا درجہ دے دیا ہے۔ آج کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہر چیز کی آزادانہ تحقیق (free inquiry) ہونی چاہیے۔ کسی بات کو صرف اس وقت ماننا چاہیے جب کہ آزادانہ تحقیق کی کسوٹی پروہ ثابت شدہ بن گئی ہو۔

جدید انسان نے اس فکر کا استعمال جس طرح جامد مادہ کی دنیا میں کیا، اسی طرح اس نے اس کا استعمال مذہب پر بھی کیا۔ مذہبی کتابوں اور ان کی تعلیمات کی جانچ کی جانے لگی۔ اس جانچ نے پہلی بار خالص علمی سطح پر یہ ثابت کیا کہ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب غیر معتبر ہیں۔ علمی اور تاریخی اعتبار سے وہ قابلِ اعتماد نہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔

مسیحیت کی بنیادتثلیث (trinity)کے عقیدہ پرقائم ہے۔ آپ کسی مسیحی عالم سے عقیدۂ خدا پر گفتگو کریں تو وہ کہے گا کہ خدا کی فطرت تثلیث ہے

‘‘The nature of God is trinity.’’

تثلیث کا مطلب ، ارباب چرچ کی تشریح کے مطابق ، تین میں ایک ، ایک میں تین (3 in one, one in 3) ہے۔ اب آج کا انسان جو ہر معاملے کو عقل سے سمجھنا چاہتا ہے وہ عیسائی عالم سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اور ایک اور ایک مل کر ایک ہوں

How can 1+1+1=1?

مسیحی عالم پہلے ناقابل فہم اصطلاحوں میں اس کو سمجھانا چاہے گا اور جب وہ دیکھے گا کہ جدید ذہن اس کے جواب سے مطمئن نہیں ہو رہا ہے تو آخر کار وہ یہ کہہ دے گا کہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہم سمجھ نہیں سکتے

‘‘These are things that we cannot understand.’’

مگر اس قسم کا کوئی جواب جدید انسان کے لیے ناقابل فہم اور ناقابلِ قبول ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جب وہ کائنات کامطالعہ کرتا ہے تو کائنات پوری طرح معلوم ریاضیاتی ڈھانچہ (mathematical frame) میں ڈھل جاتی ہے۔ چنانچہ ایک سائنس داں کو اسے دیکھ کر یہ کہنا پڑا کہ کائنات کا خالق ایک اعلیٰ درجہ کا ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) ہے۔ مگر خود خالق کے عقیدے کو مسیحیت جس انداز میں پیش کرتی ہے وہ سراسر غیر ریاضیاتی اور غیر عقلی ہے۔

اس صورت حال نے جدید انسان کو ایک نازک مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ اپنی فطرت کے زور پروہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے خدا کو پائے۔ وہ خالق کائنات پر ایمان لا کر اس کا پرستار بن جائے۔ مگر مروّجہ مذاہب اس کے سامنے خدا کا جو تصور پیش کر رہے ہیں وہ اس کی فطرت کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے اور اس کے علمی اور عقلی ڈھانچےکے بھی خلاف ۔

اس طرح جدید فکری انقلاب نے آج کے انسان کو عین اسلام کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ انسان کے سامنے توحید کا سچا تصور پیش کیا جائے جو فطرت اور علم دونوں کے عین مطابق ہے۔ یہاں دونوں باتوں میں وہ ٹکراؤ نہیں جو موجودہ محرف مذاہب میں پایا جا رہا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.