Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

T,ameer-o-istehkaam

Urdu · 10 min

تعمیر و استحکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی "سپریم سکسیس" کا ایک اہم راز یہ تھا کہ آپ اقدام سے زیادہ استحکام کو اہمیت دیتے تھے۔ داخلی تعمیر اور اندرونی استحکام کی آپ کے نزدیک اتنی زیادہ اہمیت تھی کہ اس کے لیے آپ ہر دوسری چیز کو نظرانداز کر سکتے تھے۔ تعمیر و استحکام کے مقصد کو آپ ہر حال میں حاصل کرنا چاہتے تھے، خواہ اس کی جو بھی قیمت آپ کو دینی پڑے۔ اس کی ایک مثال بدر کے قیدیوں کا معاملہ ہے۔

قدیم عرب میں صرف مکہ ایک ایسا شہر تھا جہاں ایسے لوگ تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ مدینہ اور دوسری بستیوں میں عام طور پر لوگ لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھے۔ بدر کی جنگ کے بعد اہلِ مکہ کے 70 آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ ان میں اکثر لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

عام رواج کے خلاف آپ نے ان کو قتل نہیں کیا، بلکہ ان کی رہائی کا یہ آسان فدیہ مقرر فرمایا کہ ان کا ایک شخص مدینے کے مسلم نوجوانوں میں سے کم از کم 10 آدمیوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم فداءهم أن يعلموا أولاد الأنصار الكتابة مسند احمد، حدیث نمبر 2216۔ یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا اسکول تھا جو مدینے میں قائم کیا گیا۔ اس اسکول کے تمام استاد مشرک بلکہ اسلام دشمن تھے۔

پیغمبر اسلام کی بلند نظری کی یہ کیسی عجیب مثال ہے۔ یہ تعلیم کی اہمیت کا ایک انتہائی انقلابی نمونہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں قائم فرمایا۔ اس نوعیت کی کوئی دوسری مثال غالباً پوری انسانی تاریخ میں موجود نہیں۔ تعلیمی انتظام کا یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔

اس میں بہت بڑا خطرہ یعنی رسک شامل تھا، کیونکہ یہ اساتذہ سب کے سب وہ لوگ تھے جن کی اسلام دشمنی مسلم ہو چکی تھی۔ اس بات کا یقینی خطرہ تھا کہ یہ لوگ رہا ہونے کے بعد جنگی تیاری کریں گے اور دوبارہ مدینے پر حملہ آور ہوں گے۔ چنانچہ عملاً بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ مدینے سے رہا ہو کر مکہ پہنچے تو انہوں نے اپنے بدر کے مخطولین کے نام پر جذباتی تقریریں کیں۔

انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو بدلہ لینے پر ابھارا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ بدر کی لڑائی کے صرف ایک سال بعد احد کی لڑائی پیش آئی۔ اس یقینی خطرے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے کے قیدیوں کو مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال فرمایا۔ اس طرح آپ نے یہ مثال قائم فرمائی کہ علم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ہر حال میں حاصل کرنا چاہیے، خواہ اس کے حصول کے لیے کتنا ہی بڑا خطرہ مول لینا پڑے۔

علم وہ طاقت ہے جو بالآخر آدمی کو ہر چیز دے دیتا ہے، حتیٰ کہ وہ چیز بھی اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جاتی ہے۔ جس کو ابتدائے علم کو حاصل کرنے کی راہ میں اسے کھونا پڑا تھا، حتیٰ کہ وہ چیز بھی اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جاتی ہے۔ جس کو ابتدائے علم کو حاصل کرنے کی راہ میں اسے کھونا پڑا تھا۔ اس سلسلے کی دوسری مثال وہ ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔

اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے مکے کے لیے عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ مکے کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ عمرے کے لیے مکے میں داخل ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید اصرار کے بغیر وہیں رک گئے۔

اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کی بات شروع ہوئی۔ اس گفتگو میں اہلِ مکہ نے بے حد سرکشی دکھائی۔ انہوں نے معاہدے کے لیے ایسی شرطیں پیش کیں جو ایک طرفہ طور پر ان کے حق میں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ان نازیبہ شرطوں کو مان لیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ اہلِ مکہ کی ایک طرفہ شرطوں کو مان لینے کے بعد آپ کو ایک وقف تعمیر حاصل ہو رہا تھا۔ اہلِ مکہ معاہدے کے تحت اس کے پابند ہو گئے تھے کہ وہ آئندہ 10 سال تک مسلمانوں کے خلاف جنگ نہ چھیڑیں گے۔ اس طرح یہ معاہدہ آپ کو موقع دے رہا تھا کہ آپ جنگ اور ٹکراؤ کے مسائل سے فارغ ہو کر یکسوئی کے ساتھ داخلی استحکام کا کام کر سکیں۔ اس وقفِ امن سے فائدہ اٹھا کر آپ نے اپنی دعوتی سرگرمیاں بڑھا دیں۔

اسلام تیزی سے قبائل کے درمیان پھیلنے لگا۔ اسلام کی عددی طاقت میں نمایاں طور پر اضافہ ہو گیا، یہاں تک کہ یہ حال ہوا کہ حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ صرف 1400 اصحاب شریک تھے۔ اس کے بعد دو سال کے اندر جب آپ نے دوبارہ مکے کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھیوں کی تعداد 10,000 ہو چکی تھی۔ یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مکے کے لوگ محض اس کی خبر سے دہشت زدہ ہو گئے اور کسی مقابلے کے بغیر مکے کو آپ کے حوالے کر دیا، جو اس وقت گویا عرب کی راجدھانی تھا۔

تعمیر و استحکام کے معاملے کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کی حکمت یہ ہے کہ قوموں اور ملتوں کی زندگی میں یہی وہ چیز ہے جو سب سے زیادہ فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ کسی فرد یا قوم کو خارجی مقام عین اسی تناسب کے بقدر ملتا ہے جو اس نے داخلی تعمیر کے اعتبار سے اپنے لیے بنایا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اس دنیا میں کسی قوم کو جو مقام ملتا ہے، وہ اس اعتبار سے ملتا ہے کہ وہ داخلی تعمیر اور اندرونی استحکام کے اعتبار سے کس درجے پر ہے، نہ یہ کہ لفظی ہنگامہ آرائیوں کے اعتبار سے اس نے کتنا طوفان برپا کیا ہے۔ تعمیر و استحکام کے حصول کا معیار قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اتنا زیادہ ہو کہ استعمال کے بغیر صرف اس کی موجودگی فریق ثانی کو مرعوب اور خوف زدہ کر دینے کے لیے کافی ہو جائے۔

تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ سورہ نمبر 8، آیت 60۔ حدیث میں یہ بھی حدیث میں بھی یہ بات مختلف لفظوں میں آئی ہے۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مہینے کی مسافت تک پہنچنے والے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ صحیح البخاری، حدیث نمبر 427۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو ایسی تدبیرِ کار کی تعلیم دی گئی ہے کہ جب میں اس کے مطابق اپنے آپ کو تیار کروں تو میری ہیبت دور دور کے مقام تک پہنچ جائے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 115۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.