← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Islam kya hai
Urdu · 5 min
اسلام کیا ہے؟ اسلام ایک لفظ میں توحید کا نام ہے، جس طرح درخت اصلًا ایک بیج کا نام ہوتا ہے، اسی طرح اسلام کی اصل حقیقت توحید ہے، اور بقیہ تمام چیزیں اسی توحید کے مظاہر اور تقاضے ہیں۔ توحید بظاہر یہ ہے کہ خدا کئی نہیں، خدا کئی نہیں ہیں، بلکہ خدا ایک ہے۔ مگر یہ توحید کوئی خشک گنتی کا عقیدہ نہیں ہے جو کچھ مقرر الفاظ دہرا کر آدمی کو حاصل ہو جائے۔
یہ اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر خدا کا اثبات ہے۔ یہ خدا کے مقابلے میں اپنے آپ کو دریافت کرنا ہے۔ خدا قادرِ مطلق ہے، اور بندہ عاجزِ مطلق۔ کوئی بندہ جب خدا کے ساتھ اپنی اس نسبت کو پا لیتا ہے تو اسی کا نام توحید ہے۔
توحید یا ایک اللہ پر ایمان ایک شعوری فیصلہ ہے۔ یہ حق کا انکار کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے حق کو مان لینا ہے۔ اس اعتبار سے ایمان حقیقتِ واقعے کے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ اور حقیقتِ واقعے کا شعوری اعتراف بلاشبہ اس دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے۔
یہی توحید دنیا کی تمام چیزوں کا دین ہے۔ زمین اور سورج انتہائی کامل صورت میں خدا کی تابعداری کر رہے ہیں۔ شہد کی مکھی کمال درجہ پابندی کے ساتھ خدا کی مقرر کی ہوئی راہوں پر چل رہی ہے، مگر ان میں سے کسی کی محکومی شعوری محکومی نہیں۔ وہ خود اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ویسے ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہیے۔
ساری کائنات میں یہ صرف انسان ہے جو ارادہ اور شعور کے ساتھ اپنے کو محکوم بناتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز کامل طور پر خدا کی فرمانبرداری کر رہی ہے، مگر انسان کی فرمانبرداری اختیاری ہے، اور دوسری چیزوں کی فرمانبرداری بے اختیاری۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کو سجدہ کر رہی ہیں، مگر ایک انسان جب سجدہ کرتے ہوئے زمین پر اپنا سر رکھتا ہے تو یہ تمام عالمِ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسری چیزیں مجبورانہ سجدہ کر رہی ہیں، مگر انسان شعور اور ارادے کے تحت اپنا سر خدا کے آگے جھکا دیتا ہے۔
انسان کے ذریعے اس کائنات میں شعوری اور اختیاری محکومی کا واقعہ وجود میں آتا ہے، جس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے جو اس کائنات میں شعورِ قدرت کے مقابلے میں شعورِ عجز کی دوسری انتہا بناتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحے پر عدد کے مقابلے میں صفر کا ہند سا تحریر کرتا ہے۔
وہ خداوندی انا کے مقابلے میں اپنے بے انا یعنی ایگو لیس ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ایک شخص کا موحد بننا، اس آسمان کے نیچے ظاہر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے، جس کا انعام کوئی سب سے بڑی چیز ہی ہو سکتی ہے۔ اسی سب سے، اسی سب سے بڑی چیز کا نام جنت ہے۔ جنت کسی کے عمل کی قیمت نہیں۔
جنت کسی بندے کے لیے خدا کی یہ بخشش ہے کہ اس کے بندے نے اپنے رب کو وہ چیز پیش کر دی جو کائنات میں کسی نے پیش نہ کی تھی۔ اس لیے خدا نے بھی اس کو وہ چیز دے دی جو اس نے کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیا تھا۔ کتاب راہِ عمل مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔