"أنا لكم ناصح أمين"۔ قدیم زمانے میں جنوبی عرب، یعنی ایمن کے علاقے میں، ایک قوم آباد تھی جو عاد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ایک خوشحال اور طاقتور قوم تھی، اور اس کی راجدھانی یمن کا شہر حضرموت تھا۔ اس قوم میں بگاڑ پیدا ہوا تو اس کی اصلاح کے لیے ہود پیغمبر بھیجے گئے۔
غالباً یہ وہی پیغمبر ہیں جن کا نام بائبل میں "حبر" آیا ہے۔ حضرت ہود نے اپنی قوم سے کہا: أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ سورہ نمبر 7 آیت 68۔ یعنی: اے میری قوم، میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں، اور میں تمہارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ اس مضمون کی اور آیتیں بھی قرآن میں ہیں۔
ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب کا داعی بننے کے لیے کسی شخص یا گروہ کے اندر دو خاص صفتیں ہونا ضروری ہیں: نُصح اور امانت۔ نُصح کے معنی خیر خواہی کے ہیں۔ ایک حقیقی داعی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دل میں اپنے مدعو کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ یہ جذبہ اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہونا چاہیے کہ وہ ایک طرفہ خیر خواہی کی حد تک پہنچ جائے۔
یعنی اگر داعی کو اپنے مدعو کی طرف سے اذیت پہنچنے تب بھی وہ اس کا خیر خواہ بنا رہے، مدعو اگر اس سے نفرت کرے تب بھی اس کے دل میں اپنے مدعو کے لیے محبت کا جذبہ باقی رہے۔ وہ ردعمل کی روش سے بچتے ہوئے صبر کرے، اور مدعو کی زیادتیوں سے اعراض کرے۔ احزاب سورہ نمبر 33 آیت 48۔ کرتے ہوئے اپنا دعوتی کام جاری رکھے۔
داعی کے لیے دوسری مطلوب چیز امانت ہے۔ داعی کو اپنا دعوتی کام جذبۂ امانت کے تحت کرنا چاہیے۔ یعنی اس احساس کے تحت کہ یہ دین خدا کی طرف سے اس کے پاس بطور امانت تھا، وہ اس کا اپنا سرمایہ نہ تھا، بلکہ خود مدعو کا سرمایہ تھا جس کو وہ اس کے حقدار تک پہنچا رہا ہے۔ مدعو کے اوپر دعوت کا کام کر کے اس نے صرف ایک خدائی ذمہ داری کو ادا کیا ہے۔
اس کے سوا کوئی اور حیثیت اس کے عمل کی نہیں ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں نُصح اور امانت کی یہ دونوں صلاحیتیں ختم ہو گئی ہیں، حتیٰ کہ ان کے اکابر تک کے اندر ان کا وجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں حقیقی دعوتی عمل کا ظہور نہ ہو سکا۔ یہاں اس کی وضاحت کے لیے ان دونوں پہلوؤں کی ایک ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔
کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 136۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.