← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Farz-e-mansabi se ghaflat
Urdu · 5 min
فرض منصبی سے غفلت: مسلمانوں کا اور مسلم تحریکوں کا یہ انجام کیوں ہو رہا ہے؟ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے اس کو اغیار کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دراصل مسلم دشمن طاقتوں کی سازش اور عناد ہے، جس نے ہم کو موجودہ ناکامی سے دوچار کر رکھا ہے۔ مگر یہ بات قرآن کے سراسر خلاف ہے، بلکہ یہ قرآن کے اوپر عدم اعتماد کے ہم معنی ہے۔
قرآن میں بار بار، مختلف انداز میں، یہ بات کہی گئی ہے کہ مسلمانوں کو خارجی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔ وہ جب بھی مغلوب ہوں گے تو اپنی داخلی کمزوری کی وجہ سے مغلوب ہوں گے۔ اگر ہم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں تو ہم کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ موجودہ صورتحال تمام تر مسلمانوں کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہے، نہ کہ اغیار کی دشمنی اور ان کی سازش کا نتیجہ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان کی حیثیت اس دنیا میں خدا کے نمائندے کی ہے۔
ان کی یہ لازمی ڈیوٹی ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے سامنے خدا کے دین کا اعلان و اظہار کریں۔ وہ لوگوں کے اوپر خدا کے گواہ بنیں۔ اسی گواہی کی ادائیگی پر ان کی دنیا کی نجات کا انحصار ہے، اور اسی طرح آخرت کی نجات کا انحصار بھی۔ مسلمان اگر اس کارِ شہادت یا کارِ دعوت کو چھوڑ دیں تو خدا کی نظر میں ان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔
اس کام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا کام، خواہ وہ کتنے ہی بڑے پیمانے پر کیا جائے، خدا کی نظر میں مسلمانوں کو قیمت والا نہیں بنا سکتا۔ اس مسئلے کی وضاحت کے لیے ایک عام مثال لیجیے۔ 1962 کا واقعہ ہے: چین نے ہندوستان کی مشرقی سرحد پر حملہ کر دیا۔ چینی فوجیں آسام کے علاقے میں گھس آئیں۔
اس وقت تیزپور، یعنی آسام میں، ایک ہندوستانی کمشنر تھا جو گویا وہاں ہندوستان کا نمائندہ تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ ہر حال میں وہاں موجود رہے، مگر وہ اپنا دفتر چھوڑ کر بھاگ گیا اور اپنے وطن میں آ کر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہنے لگا۔ نئی دہلی کی حکومت کو معلوم ہوا تو اس نے کمشنر کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اس پر سرکاری ڈیوٹی کو چھوڑنے کا مقدمہ چلایا گیا اور اس کو سخت سزا دی گئی۔
بچوں میں رہنا یا اپنے گھر کا انتظام سنبھالنا عام آدمیوں کے لیے بالکل جائز بات تھی، مگر کمشنر کے لیے یہی بات ناقابلِ معافی جرم بن گئی۔ کیونکہ کمشنر کی قیمت تیزپور میں تھی، اس کی قیمت گھر کے اندر نہ تھی۔ اگر وہ اپنی ڈیوٹی کے مقام پر ٹھہرا رہتا تو وہ حکومت کا انتہائی مطلوب شخص بن جاتا۔ حکومت اس کو بچانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتی۔
اس کے لیے خصوصی ہوائی جہاز بھیجے جاتے۔ مگر جب اس نے اپنی ڈیوٹی کی جگہ چھوڑ دی تو اس نے اپنی قیمت بھی کھو دی۔ اب وہ صرف ایک مجرم تھا، خواہ کسی اور میدان میں وہ کتنی ہی سرگرمی دکھا رہا ہو، خواہ وہ بظاہر مفید کام کیوں نہ کر رہا ہو۔ یہی موجودہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔
ان کے لیے نجات اور کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس والے کام کے لیے اٹھیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ وہ بھی اسی طرح خدا کی پکڑ کی زد میں آ جائیں گے جس طرح اس سے پہلے یہود آ گئے، اور اس کے بعد ان کی ساری سرگرمیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی، خواہ بطور خود انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو کتنا ہی شاندار عنوان دے رکھا ہو۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 130۔