← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka JayezaRaah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Dawat ke bajaye tahaffuz
Urdu · 5 min
دعوت کے بجائے تحفظ۔ 1947 عیسوی سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ وہ ملک کے اکثریتی فرقے کی طرف سے خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر، ان کو یہ اندیشہ تھا کہ آزادی کے بعد مشترک ہندوستان میں اردو کا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔ ہندو حکومت اور ہندی پریچارنی سبھا اردو کو کھا جائیں گے۔
اس لیے انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ ہم کو ایک الگ "ہوم لینڈ" دیا جائے تاکہ ہم وہاں اردو زبان کی حفاظت کر سکیں۔ اس عنوان پر مسلم عوام کی تائید حاصل کرنے کے لیے دھواں دھار تحریک چلائی گئی۔ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی کہ اردو ہے تو اسلام ہے، اردو نہیں تو اسلام بھی نہیں۔ تحریک کامیاب ہوئی، اردو قوم کو ایک ہوم لینڈ مل گیا۔
مگر اس کے بعد 1971 عیسوی میں بنگلہ دیش میں اور 1987 عیسوی میں سندھ میں اردو دانوں اور غیر اردو دانوں کے درمیان جو خونریز فسادات ہوئے، وہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ سوچ سراسر غلط تھی۔ جو لوگ ہندو ظلم کی شکایت کرتے تھے، کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ خود اپنے بھائیوں کے خلاف شدید تر ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ ان کا باہمی اختلاف یہاں تک پہنچا ہے کہ پاکستان کے ایک کروڑ اردو بولنے والے مہاجر قومیت کے نام سے دوبارہ اپنی علیحدہ قومیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں نے ان کے ذہن میں یہ بات بھری تھی کہ اردو اور اسلام دونوں ایک ہیں۔
اردو کا تحفظ اسلام کا تحفظ ہے۔ اس ذہن کو لے کر جب وہ پاکستان گئے تو انہوں نے عین اپنے مزاج کے تحت اردو کے تحفظ کو اپنا اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔ غیر منقسم ہندوستان میں اردو کا تحفظ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کے تحفظ کے ہم معنی تھا۔ مگر پاکستان میں وہ خود مسلمان کے مقابلے میں مسلمان کے تحفظ کے ہم معنی بن گیا۔
کیونکہ وہاں کے لوگوں کی مادری زبانیں بنگالی اور پنجابی اور سندھی وغیرہ تھیں، نہ کہ اردو۔ غیر منقسم ہندوستان میں جو نعرہ بظاہر تحفظ اسلام نظر آ رہا تھا، وہ پاکستان پہنچ کر تخریب اسلام کے ہم معنی بن گیا۔ قدیم غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے جڑ کا کام دعوت دین کا کام تھا، اور اردو یا تہذیبی مظاہر کا تحفظ صرف شاخوں کا کام۔ ہندوستانی مسلمانوں نے جڑ کے کام کو چھوڑ دیا۔
وہ شاخوں اور پتیوں کے مسئلے پر ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ مسلمان اگر جڑ والا کام کرتے تو تقریباً یہی تو تقریباً یقینی ہے کہ آج ہندوستان کی تاریخ دوسری ہوتی۔ اس کے برعکس، جب انہوں نے شاخوں والا کام کیا تو اس کے حصے میں ذلت اور بربادی کے سوا کچھ نہ آیا۔ وہ ہندوستان میں کوئی قابل ذکر تاریخ بنا سکے، اور نہ پاکستان میں۔
کتاب "راہ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔