ایک مثال: دینی اعتبار سے اتباعِ صراط اور اتباعِ سبل کیا ہیں، اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں شراب بندی کا حکم جاری کیا، تو حکم جاری ہونے کے ساتھ ہی شراب نوشی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانے میں پاکستان اور سوڈان جیسے ملکوں میں، وہاں کے حکمرانوں نے شراب بندی کا حکم جاری کیا، مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ جو شراب پہلے اوپن مارکیٹ میں بکتی تھی، وہ اب بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے لگی۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے زمین تیار کی، اور اس کے بعد شراب کی حرمت کا اعلان فرمایا، جبکہ موجودہ زمانے کے مسلم حکمران زمین تیار کیے بغیر حرمتِ شراب کا خانون جاری کرنا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ کار کی وضاحت کے لیے یہاں ہم حضرت عائشہ کی ایک روایت نقل کرتے ہیں: إنما نزل أولاً ما نزل منه سورة من المفصل فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام. ولو نزل أول شيء لا تشربوا الخمر لقالوا لا ندع الخمر أبداً، ولو نزل لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا أبداً. صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993۔ یعنی قرآن میں ابتداً وہ سورتیں نہ اتاری گئیں جن میں جنت اور جہنم کا تذکرہ تھا، یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے، اس وقت حلال اور حرام کا حکم اتارا گیا۔
اور اگر شروع ہی میں یہ حکم آ جاتا کہ شراب نہ پیو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے، اور اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔ موجودہ زمانے میں جن مسلم ملکوں میں شراب اور فواحش کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں، وہ اسی دوسری قسم میں آتے ہیں جس کا ذکر حضرت عائشہ نے اپنی حدیث کے آخر میں کیا ہے۔ کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 10۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.