جڑ اور شاخیں: قرآن میں کلمۂ ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے، سورہ نمبر 14 آیت 24۔ یہ تشبیہ بہت با معنی ہے۔ درخت کا ایک حصہ وہ ہے جو جڑ کی صورت میں ہوتا ہے، اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو شاخوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہر کسان یہ جانتا ہے کہ کھاد اور پانی دینے کا کام اسے جڑ میں کرنا ہے، نہ کہ شاخوں میں۔
جڑ میں پانی دینا بالواسطہ طور پر شاخوں اور پتیوں میں بھی پانی دینا ہے، کیونکہ پتیوں اور شاخوں کو جڑوں ہی سے طاقت ملتی ہے، نہ کہ خود پتیوں اور شاخوں سے۔ اسی طرح دین کی بھی ایک جڑ ہے اور ایک اس کی شاخیں ہیں۔ دین کا باغ اگانے کے لیے بھی اس کی جڑوں میں طاقت پہنچانا چاہیے۔ شاخوں پر عمل کرنے سے دین کا ہرا بھرا باغ کھڑا نہیں ہو سکتا۔
اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُزْغَتًا إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ». صحیح البخاری حدیث نمبر 52، صحیح مسلم حدیث نمبر 1599۔ یعنی سن لو، بے شک جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو، بے شک وہ قلب ہے۔
قلب اور جسم دو برابر درجے کی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ ان میں اصل اور فرع کی نسبت ہے۔ قلب گویا جڑ کی مانند ہے، اور جسم شاخ کی مانند۔ اگر ہم جسم کی درستگی چاہتے ہوں، تب بھی ہمیں قلب کی درستگی پر سارا زور صرف کرنا ہوگا۔ قلب کی درستگی پر زور دینا اگر اتباعِ صراط ہے، تو جسم کی درستگی پر زور دینا اتباعِ سبل۔
اس اصول کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانے کی مسلم تحریکوں کو دیکھیے تو مسلمانوں کی تقریباً تمام بڑی بڑی تحریکیں اتباعِ صراط کے بجائے اتباعِ سبل کا نمونہ نظر آتی ہیں۔ یہ تحریکیں دین کی اصل شاہراہ پر سفر کرنے کے لیے نہیں اٹھائی گئیں، بلکہ متفرق راستوں میں سے کسی راستے پر دوڑنے کے لیے اٹھائی جاتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تحریکوں کی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود دین کا باغ اب تک ہرا بھرا نہ ہو سکا۔ یہاں ہم کچھ مثالیں درج کرتے ہیں جن سے معاملے کی وضاحت ہوتی ہے۔
کتاب: «راہِ عمل» مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 8۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.