اصول اور فروع: اس آیت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی تبعیت میں تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جو الدین پچھلے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا، وہی تم کو بھی دیا گیا ہے۔ تم اس کی سچی پیروی کرو، اس میں تفریق نہ پیدا کرو۔ مفسرین نے صراحت کی ہے کہ اس آیت میں الدین سے مراد صرف اثاثی دین ہے، نہ کہ جزئیات و فروع سمیت تمام دین۔ کیونکہ قرآن سے ثابت ہے کہ اثاثی دین کے علاوہ شریعت اور منہاج میں ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان فرق تھا، اس لیے تمام پیغمبروں کی مشترک پیروی صرف اثاثی اور اصولی دین میں ہو سکتی ہے، جو کہ سب کے یہاں ایک رہا ہے۔
نہ کہ شریعت اور منہاج میں، جس میں ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ سارا زور اور تاکید بنیادی تعلیمات پر دیا جائے، کیونکہ بقیہ تمام چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر ضمنی اور فروعی باتوں کو زور و تاکید کا موضوع بنایا جائے تو یہ تغیرِ اہمیت، یعنی shift of emphasis، کے ہم معنی ہوگا۔ اور تغیرِ اہمیت کے بعد کبھی کسی قوم میں حقیقی دینی زندگی پیدا نہیں کی جا سکتی۔
کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.