Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Itteba-e-sirat,Itteba-e-subul

Urdu · 7 min

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اتباعِ صراط، اتباعِ سبل۔ پچھلی امتوں میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے ایک بنیادی خرابی یہ تھی کہ وہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے، اور خدا کے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ سورہ نمبر 30، آیت 32۔

یہی خطرہ شدید طور پر اگلی امت کے لیے بھی تھا۔ اس لیے خران و حدیث میں نہایت تاکید کے ساتھ اہلِ اسلام کو یہ نصیحت کی گئی کہ تم ان کی پیروی نہ کرنا۔ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتِ، وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورہ نمبر 3، آیت 105۔ یعنی: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور باہم اختلاف کر لیا، بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آ چکے تھے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اس سلسلے میں قرآن میں جو ہدایات دی گئی ہیں، ان کا خلاصہ مندرجہ ذیل آیت میں ملتا ہے: وَأَنَّ هَذَا سِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ، ذَٰلِكُمْ وَصَّوْاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ سورہ نمبر 6، آیت 153۔ یعنی: اے پیغمبر، کہہ دو کہ یہ میری راہ ہے، سیدھی۔ پس تم اس پر چلو، اور متفرق راستوں پر نہ چلو؛ وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے، تاکہ تم بچو۔

اس آیت کی تشریح ایک روایت میں ملتی ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا خَطًّا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا سَبِيلُ اللهِ مُسْتَقِيمًا، وَخَطَّ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ السُّبُلُ لَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلَّا عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَأَنَّ هَذَا سِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ مسند احمد، حدیث نمبر 4437۔ یعنی: حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز ہمارے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی، پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے۔

اس کے بعد آپ نے اس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں، پھر فرمایا کہ یہ متفرق راستے ہیں۔ ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: "اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس تم اسی کی پیروی کرو" سورہ نمبر 6، آیت 153۔ ان آیتوں اور حدیثوں کے مطابق عمل کے دو طریقے ہیں: ایک اتباعِ صراط، اور دوسرے اتباعِ سبل۔

ان دونوں طریقوں میں جو فرق ہے، وہ اسلام اور کفر کا نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے ایک کھلی ہوئی دینداری ہے اور دوسری کھلی ہوئی بے دینی۔ بلکہ یہ دونوں ہی دین کے نام پر کیے جانے والے عمل ہیں۔ تاہم دین کے نام پر کیے جانے کے باوجود ان میں سے ایک مطلوب دینداری ہے، اور دوسری غیر مطلوب دینداری۔

چنانچہ خران کی دوسری سورہ میں ان میں سے ایک کو اقامتِ دین، اور دوسرے کو تفرخ فی الدین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورہ نمبر 42، آیت 13۔ اب دیکھیے کہ اتباعِ صراط کیا ہے، اور اتباعِ سبل کیا ہے۔ صراط کے معنی سیدھی اور وسیع شاہراہ کے ہیں، اور سبل سے مراد متفرق راستے ہیں۔

دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صراط اور سبل دراصل اصول اور فروع کی تعبیر ہے۔ صراط سے مراد دین کی اصولی اور اثاثی تعلیمات ہیں، اور سبل سے مراد دین کی جزئی اور فروعی تعلیمات ہیں۔ اس سلسلے میں حسبِ ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّيْنَا نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ سورہ نمبر 42، آیت 13۔ یعنی: اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کر دیا جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا۔

یہ کہ دین کو قائم رکھو، اور اس میں اختلاف نہ ڈالو۔ کتاب: راہِ عمل، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 5۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.