Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Khuda ka Mansuba.

Urdu · 5 min

خدا کا منصوبہ۔ کائنات اور انسان کی صورت میں جو عظیم دنیا ہمارے سامنے ہے، وہ بلاشبہ ایک خدائی منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے، اور خدائی منصوبے کے مطابق اس کا ایک بامعنی انجام ہونا مقدر ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے انسان ایک ابدی مخلوق ہے، لیکن انسان موجودہ دنیا میں صرف محدود مدت کے لیے رہتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی اوسط عمر تقریباً 70 سال ہے۔

ابدیت کا طالب انسان عملاً ابدیت کو پانے سے محروم رہتا ہے، مگر انسان کے لیے یہ محرومی کی بات نہیں؛ ایسا خالق کے تخلیقی پلان کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ انسان کی اپنی خواہش کی بنا پر۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کو اس دنیا میں صرف محدود مدت تک کے لیے رہنا ہے۔ اس کے بعد انسان کو اس کے ہیبیٹیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے، جہاں اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں ابدی طور پر رہے۔ اس اگلے دورِ حیات کو قرآن میں جنت یعنی پیراڈائز کا نام دیا گیا ہے۔

ابدی جنت کی دنیا پوری تاریخِ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل موجودہ دنیا کے تربیت یافتہ افراد، یعنی ٹرینڈ انڈیویجولز، ہوں گے۔ جنت میں پوری تاریخ کے منتخب افراد، یعنی سلیکٹڈ پیپل آف ہسٹری، کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں، یعنی ہائی لیول آف انٹلیکچول ایکٹیویٹیز، کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلیٰ معاشرہ، یعنی ہائی سوسائٹی، کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورہ نمبر 4، آیت 69۔

یعنی یہ اہلِ جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت! جنت کے حصول کے لیے انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خالق کے پلان کو جانے اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے۔ انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے، لیکن اپنے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنا مکمل طور پر انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔

آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اندر اس پرسنالٹی کو ڈیولپ کرے جس کی وجہ سے وہ اگلی دنیا میں بننے والی پیراڈائز کے لیے مستحق امیدوار، یعنی ڈیزرونگ کینڈیڈیٹ، قرار پائے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَنْ لَا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ سورہ نمبر 4، آیت 65۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔ انذار و تبشیر کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیغمبروں کا مشن خالص اخروی مشن تھا۔

ان کے مشن کا فوکس ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ انسان کے لیے وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو ابدی جنت تک پہنچانے والا ہے، اور وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو اس خطرے، یعنی رسک، میں ڈالنے والا ہے کہ اگلے دورِ حیات میں اس کو ابدی طور پر جہنم والوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔ پیغمبروں کے ذریعے انسان کو جو رہنمائی ملی، اصولی طور پر اس کا خلاصہ دو چیزیں تھیں: نمبر ایک، نظریہ توحید، یعنی آئیڈیالوجی آف توحید؛ نمبر دو، طریقہ کار، یعنی میتھڈ۔ پیغمبرانہ طریقہ کار، ایک لفظ میں غیر نزاعی طریقہ کار، یعنی نان کنفرنٹیشنل میتھڈ ہے۔ نظریہ اور طریقہ کار کے اعتبار سے یہی دو چیزیں پیغمبروں کے ذریعے انسان کو دی گئیں۔

الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.