← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Ilmul Asmaa.
Urdu · 4 min
علم الاسماء۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے واقعے میں اسماء یعنی نام کو بتانے سے مراد غالباً انسان کی تاریخ کا خلاصہ بتانا ہے، یعنی وہ تاریخ جو آدم کی اولاد کے زمین پر سرگرم عمل ہونے کے بعد وجود میں آئی۔ انسان سے پہلے اللہ نے جنات کو پیدا کیا: الحجر سورہ نمبر 15 آیت 27۔ اس بنا پر فرشتوں کو یہ شک تھا کہ انسان بھی وہی کرے گا جو اس سے پہلے جنات کر چکے ہیں، لیکن انسان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔
انسان کے معاملے میں اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ جنت کی صورت میں ایک اعلیٰ مسکن بنائے، اور وہاں انسان جیسی مخلوق کے منتخب افراد کو بسائے۔ انسان کو کامل آزادی دی جائے، جس کو قرآن میں "امانت" کہا گیا ہے، الاحزاب سورہ نمبر 33 آیت 72۔ اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ ایک صاحبِ عقل مخلوق کو پیدا کی جائے، اور اس کو زمین پر آباد کر کے آزادانہ طور پر عمل کا پورا موقع دیا جائے۔ پھر ان میں سے ایسے افراد منتخب کیے جائیں جن کے بارے میں تجربے سے یہ ثابت ہو کہ وہ کامل آزادی کے باوجود کامل اطاعت کی صفت رکھنے والے ہوں۔
یعنی کامل آزادی، یعنی ٹوٹل فریڈم، کے باوجود خود اختیار کردہ ڈسپلن، سیلف امپوزڈ ڈسپلن کا حامل ہونا۔ یہاں اس بات کا شدید امکان تھا کہ کامل آزادی کی صورت میں ایسا ہوگا کہ انسانوں کی ایک تعداد اپنی آزادی کا غلط استعمال، یعنی مس یوز، کرے گی۔ لیکن ایسا ہونا ناگزیر تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ ابدی جنت کے مستحق افراد کو وجود میں لانا، اور ایسے افراد اسی وقت پیدا ہو سکتے تھے جبکہ ان کو حقیقی معنوں میں کامل آزادی دے کر یہ رزق لیا جائے کہ ان میں سے ایک گروہ بھٹکنے والا ہوگا تو دوسرا گروہ ایسا نکلے گا جو اپنے اختیار کو صحیح طور پر استعمال کرے اور اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کرے۔
فرشتے اپنے ذہن کے مطابق اس کو ناممکن سمجھتے تھے کہ نئی مخلوق، یعنی انسان، فرشتوں کی مانند کامل معنوں میں اطاعت گزار ہو۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ انسان زمین میں فساد کریں گے اور ایک دوسرے کا خون بہائیں گے، البقرہ سورہ نمبر 2 آیت 30۔ لیکن اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ نئی مخلوق تخلیقی اوصاف، یعنی کریئیٹو کوالٹی، کی مالک ہو، یعنی وہ خود دریافت کردہ معرفت، یعنی سیلف ڈسکورڈ ریلائزیشن، پر کھڑی ہو۔ وہ خود اختیار کردہ نظم، یعنی سیلف اکوائرڈ ڈسپلن، کی صفت رکھتی ہو۔
وہ خود دریافت کردہ سچائی، سیلف ڈسکورڈ ٹرتھ، پر کھڑی ہونے والی ہو۔ اس کے اندر یہ صفت ہو کہ وہ اپنی اصلاح آپ، یعنی سیلف کریکشن کا پراسیس، اپنے اندر جاری کر سکے۔ وہ پورے معنوں میں خود تعمیر کردہ انسان، سیلف میڈ مین، کہلانے کی مستحق ہو۔ ایسی ہی مخلوق اللہ کے نزدیک اس قابل تھی کہ وہ ابدی جنت کے باغوں میں ہمیشہ کے لیے آباد کی جائے۔
یہاں علم الاسماء سے مراد بظاہر انسان کی تاریخ ہے۔ اللہ کا فرشتوں سے یہ کہنا کہ تم ان کے نام بتاؤ، یعنی ان کی تاریخ بتاؤ، یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ تم یہ دیکھ رہے ہو کہ پیدا کیے جانے والے انسان آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور دوبارہ زمین میں فساد پھیلائیں گے۔ مگر اللہ کے سوال میں یہ بات مضبر تھی کہ تم انسانی تاریخ کے جز کو دیکھ رہے ہو، تم تاریخ کے کل کو دیکھ کر رائے نہیں بنا رہے ہو۔ آدم نے اپنے الہامی علم کے مطابق فرشتوں کو انسان کی تاریخ بتائی۔
اس کے بعد فرشتے اعتراف کے طور پر سجدے میں گر پڑے، اور وہ انسان جیسی مخلوق کی پیدائش کو اللہ رب العالمین کا اعلیٰ تخلیقی منصوبہ سمجھ کر اس پر راضی ہو گئے۔ الرسالہ ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 8۔