← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Taqleeq ke Advaar.
Urdu · 4 min
تخلیق کے ادوار: اللہ رب العالمین نے پہلے مادی کائنات یعنی یونیورس کو بنایا۔ معلوم طور پر یہ آغاز اس عالمی دھماکے سے ہوا جو سائنسی اندازے کے مطابق 13. 8 بلین سال پہلے پیش آیا۔ اس کے بعد موجودہ کائنات تدریجی ارتقاء یعنی گرجول ڈیولپمنٹ کے اصول پر بنی۔
یہ واقعہ غالباً 6 ادوار یعنی پیریڈز کی صورت میں پیش آیا۔ یہ بات قرآن میں 7 مرتبہ "ستة أيام" یعنی 6 دن کے الفاظ میں آئی ہے۔ قرآن میں جس چیز کو "أيام" کہا گیا ہے اس سے مراد ادوار یعنی پیریڈز ہیں۔ قرآن کے 6 دن یعنی ستة أيام کو اگر سائنسی معلومات کی روشنی میں متعین کرنے کی کوشش کی جائے تو غالباً وہ یہ ہوگا: 1) بگ بینگ: سائنس کے مطابق تقریباً 13.
8 بلین سال پہلے ایک کاسمک بال ظاہر ہوا، پھر اس میں ایک عظیم دھماکہ ہوا، پھر اس کے بعد پروسیس جاری ہوا جس سے کائنات ظہور میں آئی۔ 2) سولر بینگ: مذکورہ دھماکے کے بعد خلا میں جو پروسیس جاری ہوا، اس کے نتیجے میں سورج اور شمسی نظام وجود میں آئے۔ اسی دوران ہماری زمین یعنی پلانٹ ارتھ وجود میں آئی۔ 3) واٹر بینگ: زمین کے وجود میں آنے کے بعد ایک لمبا پروسیس جاری ہوا، اس کے بعد زمین پر دو گیسوں کی ترکیب سے پانی بنا اور وہ سمندروں میں بھر گیا۔
4) پلانٹ بینگ: اس پروسیس کے اگلے مرحلے میں زمین کے اوپر نباتات کا وجود عمل میں آیا، مختلف قسم کے نباتات سے پوری زمین ڈھک گئی۔ 5) اینیمل بینگ: اس کے بعد اگلا مرحلہ سامنے آیا اور زمین پر بے شمار قسم کے حیوانات یعنی زندہ اشیاء وجود میں آ گئے۔ 6) ہیومن بینگ: آخری دور میں انسان وجود میں آیا اور دھیرے دھیرے پورے زمین پر پھیل گیا۔ زندگی کی یہ مختلف صورتیں الگ الگ وجود میں آئیں۔
ان چیزوں کے وجود میں آنے کے معاملے میں مفروضہ نظریۂ ارتقاء کا کوئی دخل نہیں ہے۔ ان 6 ادوار کا ذکر قرآن میں اپنے مخصوص انداز میں آیا ہے۔ قرآن کا گہرا مطالعہ کر کے ان کو معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک پہلے دور کی بات ہے، وہ قرآن میں صراحت کی زبان میں آیا ہے۔
یہ بات قرآن کی دو آیتوں میں بیان کی گئی ہے۔ پہلی آیت یہ ہے: أَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَ رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا سورہ نمبر 21 آیت 30۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے؟ پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔
دوسری آیت یہ ہے: أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ سورہ نمبر 14 آیت 10۔ یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کو پھاڑنے والا ہے؟ اس آیت میں فاطر کے معنی ہیں پھاڑنے والا۔ پہلی آیت میں جس واقعے کو رتق اور فتق کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اسی کو دوسری آیت میں فاطر کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
دونوں آیتوں میں لفظی فرق کے ساتھ ایک ہی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات ابتدا میں ایک کاسمک بال کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ اس کاسمک بال میں کائنات کے تمام پارٹیکل موجود تھے۔ پھر ایک عظیم دھماکے کے ذریعے یہ تمام پارٹیکل فضا میں پھیل گئے۔
پھر ایک لمبے پروسیس کے ذریعے یہ تمام پارٹیکل کائنات کے مختلف اجزاء کی صورت میں جمع ہوئے۔ یہ سارا معاملہ انتہائی منظم انداز میں ہوا۔ اس عمل کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں ہو سکتی کہ ایک خادرِ مطلق خدا نے ان تمام واقعات کو انجام دیا۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 5۔