Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Mahdi,na ke haadi.

Urdu · 3 min

مہدی، نہ کہ ہادی۔ بعض لوگوں نے مہدی کو ہادی کے معنی میں لے لیا؛ اس خود ساختہ تصور کے مطابق انہوں نے کہا کہ مہدی جدید دور کا ایک انقلابی لیڈر ہوگا جو عالمی سیاسی نظام قائم کرے گا۔ مہدی کی یہ تعریف سرتاسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہدی جدید دور کا ایک عارف ہوگا؛ وہ خدا کی توفیق سے خود اعلیٰ معرفت حاصل کرے گا اور دوسروں کو اعلیٰ معرفت کا راستہ دکھائے گا۔

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ معرفتِ الہی کا حصول خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اعلیٰ اور سب سے زیادہ مطلوب چیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کام بلاشبہ عالمی سطح پر انجام پائے گا، لیکن مہدی کا کام سیاسی انقلاب کے ہم معنی نہیں ہوگا، بلکہ وہ افراد کے اندر ذہنی سطح پر ربانی انقلاب پیدا کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مہدی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو اس کے اندر ایسے امتیازی اوصاف ہوں گے کہ لوگ فوراً اس کو پہچان لیں گے اور جوک در جوک اس کے ساتھی بن جائیں گے۔ لیکن حدیث میں مہدی یا رسولِ مومن کی تصویر اس سے بالکل مختلف ہے۔

حدیث کے مطابق جب مہدی ظاہر ہوگا تو وقت کے بااثر افراد اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی مہدی کی مخالفت پر انتہائی حد تک جری ہو جائیں گے اور اس کی کردار کشی، یعنی character assassination، کریں گے، یہاں تک کہ وہ اس کو قتل کر دینا چاہیں گے۔ مگر مہدی کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہوگی۔ اس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی ہرگز اپنے تخریبی منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے۔

حدیث کے مطابق دجال کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ ہوگی، لیکن مہدی یا رسولِ مومن کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ نہ ہوگی۔ مہدی کی مذکورہ تعریف ایک خود ساختہ تعریف ہے؛ اس میں مہدی کو بدل کر ہادی کے ہم معنی قرار دے دیا گیا ہے، یعنی ایک ایسا لفظ جو مفعول کی حیثیت رکھتا تھا، اس کو فاعل کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ یہی چیز ہے جو لوگوں کے لیے مہدی کو پہچاننے کے معاملے میں رکاوٹ بنے گی۔ وہ عالمگیر سیاسی انقلاب کو مہدی کی پہچان بنائے ہوئے ہیں، حالانکہ حدیث میں دیے ہوئے لفظ کے مطابق مہدی کی پہچان یہ ہے کہ وہ گمراہی کی تاریکی میں ہدایت کی روشنی پائے گا۔

وہ معرفتِ اعلیٰ کو دوبارہ دریافت کرے گا، جبکہ وہ مستور ہو چکی ہوگی۔ مہدی کا ظہور اصلًا دریافتِ ہدایت کا واقعہ ہے، نہ کہ نفاذِ ہدایت کا واقعہ۔ کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.