← Qiyamat ka AlarmQiyamat ka Alarm
Mukammal deen ka nazriyya.
Urdu · 7 min
مکمل دین کا نظریہ: دین کی سیاسی تعبیر کی دوسری بنیاد مکمل دین کا نظریہ تھا۔ مکمل دین کا مطلب یہ تھا کہ دین میں عقیدہ اور عبادت کے احکام ہیں، اور اسی کے ساتھ اس میں دیوانی اور فوجداری قوانین بھی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ دین کا عبادتی حصہ اس کا حقیقی حصہ، یعنی ریئل پارٹ ہے، اور قوانین کے نفاذ کا معاملہ دین کا اضافی حصہ، یعنی ریلیٹو پارٹ۔ یعنی دین کے عبادتی حصے کو ہر حال میں اور ہر شخص کو اختیار کرنا ہے۔
اس کے برعکس، قوانین کے نفاذ کا معاملہ پورے معاشرے کا معاملہ ہے۔ معاشرہ اگر تیار ہو تو قوانین کا نفاذ اس کی شرعی ذمہ داری بن جائے گی، اور اگر معاشرہ تیار نہ ہو تو قوانین کا نفاذ عملاً التوا کے خانے میں رہے گا۔ مکمل دین کے نظریے میں یہ مغالطہ شامل ہے کہ اس میں دین کے حقیقی حصے اور دین کے اضافی حصے دونوں کو ہر حال میں یکساں مطلوب کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اسی سے تمام خرابیاں پیدا ہوئیں۔
حالانکہ دین کے حقیقی حصے کی مطلوبیت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے، اور دین کے اجتماعی حصے کی مطلوبیت معاشرے کی حالت کے ساتھ مشروط ہے۔ افراد کے لیے وہی دین مکمل دین ہے جس پر عمل کرنا ان کی استطاعت کے مطابق ان سے مطلوب ہو۔ اسلام کا پولیٹیکل انٹرپریٹیشن مکمل اسلام کے نفاذ کے نام پر کیا گیا، مگر عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ اسلام سے مکمل انحراف کے ہم معنی بن گیا۔ یہ اسلام کی حقیقت کو درہم برہم، یعنی ٹاپسی ٹروی کرنے کا ایک معاملہ تھا۔
اس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیش آئیں، ان میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے: اسلام کے پولیٹیکل انٹرپریٹیشن کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ اسلامی عمل کا اصل نشانہ بدل گیا۔ اصل نشانہ وہ ہے جس کو قرآن میں وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ المائدہ آیت 35 کہا گیا ہے۔ یعنی خدا کی قربت تلاش کرنا۔ مگر اس انٹرپریٹیشن میں اس کے برعکس اسلام کا اصل نشانہ یہ بن گیا کہ رائج الوقت سیاسی سسٹم کو توڑو تاکہ تم دنیا میں مکمل اسلام کو نافذ کر سکو۔
اس انٹرپریٹیشن کا دوسرا نقصان یہ تھا کہ اس میں اجتماعی تعلقات کی نوعیت مکمل طور پر بدل گئی۔ اسلام کے مطابق مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو تعلق ہے، وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ مگر پولیٹیکل انٹرپریٹیشن نے اس کو بدل کر مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان سیاسی حریف کا تعلق قائم کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے انسان مسلمانوں کے لیے دعوتی خیرخواہی کا موضوع نہ رہے، بلکہ وہ ان کے سیاسی مد مقابل بن گئے۔
اس طرح عملاً دعویٰ کلچر کے بجائے ایک پولیٹیکل کلچر وجود میں آ گیا۔ پھر اسی پولیٹیکل انٹرپریٹیشن کا یہ نتیجہ تھا کہ ساری دنیا میں اسلامی عمل متشددانہ عمل کے ہم معنی بن گیا۔ ان لوگوں نے اپنے کام کا آغاز پرامن کوشش کی صورت میں کیا، مگر جلد ہی ان کو محسوس ہوا کہ پرامن کوشش کے ذریعے اقتدار کو بدلنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کر لیا۔
حتیٰ کہ انہوں نے اس معاملے میں خودکش بمباری کو بھی اپنے لیے جائز قرار دے دیا۔ اس طرح سیاسی انقلاب کا نظریہ عملاً سیاسی فساد کے ہم معنی بن گیا۔ اسلام کے پولیٹیکل انٹرپریٹیشن نے اس سے متاثر لوگوں کو ایک ایسے کام میں مصروف کر دیا جو اسلام میں سرتا سر ناجائز تھا۔ یعنی قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف بغاوت۔
موجودہ زمانے میں ہر ملک میں ایسے مسلم لیڈر حکومت کر رہے تھے جنہوں نے ماڈرن ایجوکیشن حاصل کی تھی، اور اس بنا پر اپنی نجی زندگی میں مذہبی ہونے کے باوجود وہ سیاسی معاملات میں جدید طرز فکر کے حامل تھے۔ چنانچہ اس انٹرپریٹیشن کے حاملین نے یہ اعلان کر دیا کہ یہ لوگ ہمارے ملک میں مکمل اسلام نافذ نہیں کر رہے ہیں، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ان سے لڑ کر ان کو اقتدار سے ہٹائیں، اور ایسے لوگوں کو اقتدار پر قبضہ دلائیں جو مکمل اسلام کو نافذ کرنے والے ہوں۔ اس نظریے کے تحت یہ ہوا کہ خود مسلم ملک کے لوگ دو طبقوں میں بٹ گئے: حاکم اور غیر حاکم۔ اور پھر مسلم عوام اپنے ملک کے حکمرانوں سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔
مسلمانوں کا یہ فعل فقہ کی اصطلاح میں خروج، یعنی ریوالٹ، کا فعل تھا، جو مبینہ طور پر اسلام میں حرام ہے۔ بیسویں صدی عیسوی تقریباً پوری کی پوری پولیٹیکل انٹرپریٹیشن سے پیدا ہونے والے ہنگاموں کی صدی تھی۔ یہ عین وہی زمانہ تھا جبکہ سائنس کی دریافتوں نے قرآن کے الفاظ میں کائنات میں چھپی ہوئی آیات، یعنی سائنس، کو آخری حد تک کھول دیا تھا۔ اس وقت ضرورت تھی کہ سائنس کے دریافت کردہ حقائق کو لے کر دعوت حق کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دیا جائے۔
مگر عین اسی وقت یہ ٹریجڈی پیش آئی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم قائدین پولیٹیکل ہنگاموں میں مشغول ہو گئے، اور تبیین حق کا اعلیٰ ترین کام جو ہو سکتا تھا وہ نہ کیا جا سکا۔ اس معاملے میں مسلم قائدین کی سیاسی انتہا پسندی کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ سید جمال الدین افغانی، وفات 1897، پیرس میں بیٹھ کر سیاسی ہنگاموں کی قیادت کر رہے تھے۔ 1884 کا واقعہ ہے۔
ان کے شاگرد محمد مفتی محمد عبدہ، وفات 1905، نے ان سے کہا کہ ہم سیاست کے بے فائدہ کام کو چھوڑ کر پرامن دعوت اور تعلیم کا کام کریں، جس میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ جمال الدین افغانی نے اس کے جواب میں کہا: إنما أنت مثبت جمال الدین افغانی، محمود ابو ریا، قاہرہ، 1966، صفحہ 50۔ یعنی تم تو پسپائی کی بات کرتے ہو۔ یہ بلاشبہ ایک بھیانک ٹریجڈی تھی۔
یہ ٹریجڈی پولیٹیکل انٹرپریٹیشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ پولیٹیکل انٹرپریٹیشن کے دو سنگین نتائج نکلے: جدید دعوتی مواقع کا استعمال نہ ہونا، اور پولیٹیکل انقلاب کے نام پر نفرت اور تشدد کلچر کا رواج۔ دین کی اس سیاسی تعبیر کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ دعوت الی اللہ کا کام عملاً معطل ہو گیا۔ تمام لوگ بزعمِ خود مفروضہ مکمل اسلامی نظام برپا کرنے میں مصروف ہو گئے، جو قانون فطرت کے تحت سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔
اس طرح ایک ناممکن کے حصول کی کوشش کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ جو کام پوری طرح ممکن تھا وہ بھی نہ ہو سکا، یعنی پرامن دعویٰ ورک۔ کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔