Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Nafrat aur shikayat.

Urdu · 2 min

نفرت اور شکایت، یہ چند بالکل سادہ قسم کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کی بے شمار باتیں جدید سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہمارے علم میں آئی ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار اہلِ ایمان کے لیے یہ عظیم موقع کھلا کہ وہ فطرت کے انعامات کو زیادہ اعلیٰ درجے پر جانیں اور منعم کا اعتراف زیادہ گہرائی کے ساتھ کر سکیں۔ یہ گویا اہلِ ایمان کے لیے عظیم شکر کا ایک موقع تھا، مگر عین اسی وقت شیطانی اغوا نے ان کے ذہن کو منفی سوچ کی طرف موڑ دیا۔

ساری مسلم دنیا شکایت اور نفرت اور تشدد کے جذبات کا شکار ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اعلیٰ شکر اور اعلیٰ معرفت کے تجربے سے عملاً محروم ہو کر رہ گئے۔ یہ بلاشبہ شیطانی اغوا کا بہت بڑا واقعہ تھا، اس لیے اس کو حدیث میں دجالی کہا گیا ہے۔ یہ دجالی کس طرح ممکن ہوئی؟

وہ اس طرح ممکن ہوئی کہ عین اس زمانے میں جبکہ سائنس نے آیات الہی یعنی ڈیوائن سائنس کو کھولا تھا، اسی زمانے میں غیر مسلم قوموں نے جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر مسلمانوں کو ہر شعبے میں مغلوب کر لیا۔ تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی، ہر میدان میں مسلمان غیر مسلموں سے پچھڑ گئے۔ مسلمانوں کا یہ پچھڑا پن ان کی اپنی کوتاہی کے نتیجے میں تھا۔ لیکن دجال نے جدید میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ دوسری قوموں کی سازش اور ظلم کے نتیجے میں ہوا ہے۔

اس دجالی وسوسے کے نتیجے میں مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد میں مبتلا ہو گئے۔ وہ جدید مواقع کا مثبت استعمال نہ کر سکے، نہ دعوت کے اعتبار سے اور نہ معرفت کے اعتبار سے۔ نفرت اور شکایت کا یہ ذہن بلاشبہ دجالیت کے ذریعے پیدا ہوا، کیونکہ یہ قومیں ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں، اور مدعو سے نفرت کرنا اسلام میں حرام ہے۔ دجال نے اس فعل حرام کو مزین کر کے اس کو مسلمانوں کے لیے بظاہر عین اسلام بنا دیا۔

کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.