Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Alami dawat ka daur.

Urdu · 2 min

عالمی دعوت کا دور: اس دور میں انجام دیے جانے والے مثبت کام کا دوسرا پہلو عالمی دعوت ہے۔ اس عالمی دعوت کی پیشگی خبر ایک حدیثِ رسول میں اس طرح دی گئی تھی: «لَا يَبْقَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ». مسند احمد جلد 6 صفحہ 4۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی بھی خیمہ اور مکان ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں خدا اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے۔

دنیا کے تمام گھروں میں کلمہ اسلام کا داخلہ کسی پراسرار ذریعے سے نہیں ہوگا، یہ واقعہ مکمل طور پر معلوم وسائل کے ذریعے انجام پائے گا۔ یعنی پیغام رسانی کے عالمی وسائل کے ذریعے۔ موجودہ زمانے کو کمیونیکیشن کا دور، یعنی ایج آف کمیونیکیشن، کہا جاتا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ زمانے میں پہلی بار ابلاغ کے عالمی وسائل انسان کے تصرف میں آئے ہیں۔

سائنسی انقلاب سے پہلے اس قسم کی عالمی دعوت ممکن ہی نہ تھی۔ موجودہ زمانے میں دجال نے جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے ساری دنیا کو منفی پروپیگنڈے سے بھر دیا ہے۔ ساری دنیا منفی سوچ کے اندھیرے میں جی رہی ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کو حدیث میں بطور پیشن گوئی "فتنۃ الدهیماء ابو داؤد کتاب الفتن" کہا گیا تھا، یعنی سخت قسم کا تاریک فتنہ۔

اس تاریک فتنے سے مراد ایک عظیم فکری اندھیرا، یعنی انٹلیکچول ڈارکنس ہے۔ یہ فتنہ جدید ذرائع ابلاغ کے منفی استعمال کے نتیجے میں ظاہر ہوگا۔ جدید ذرائع ابلاغ کا مثبت استعمال دعوتِ حق کی عالمی اشاعت ہے۔ یہ اشاعت ملٹی میڈیا کے ذریعے انجام پائے گی۔

ملٹی میڈیا کے ذریعے دعوت کی مؤثر اشاعت کرنے والے ہی کو غالباً حدیث میں مہدی یا رجلِ مومن کہا گیا ہے۔ جدید وسائل کا منفی استعمال کرنے والے کا علامتی نام دجال ہے، اور جدید وسائل کا مثبت استعمال کرنے والے کا علامتی نام مہدی۔ کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.