معرفتِ اعلیٰ کا امکان: حضرت ابراہیم خدا کے پیغمبر تھے، جو قبل سائنس دور میں قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے ان کو آسمان اور زمین کے ملکوت دکھائے، سورہ الانعام آیت 76۔ یہ ایک الہامی مشاہدہ تھا، وہ اس لیے کیا گیا تاکہ انہیں یقین حاصل ہو۔ آسمان اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ تخلیق کا مشاہدہ ہے۔
اس مشاہدے سے خالق کے بارے میں یقین حاصل ہوتا ہے۔ قبل سائنس دور میں اس قسم کا مشاہدہ صرف الہامی طریقے سے حاصل ہو سکتا تھا۔ موجودہ سائنسی زمانے میں، جب دوربین 1608 اور خردبین 1676 جیسے آلات کے ذریعے براہِ راست مشاہدہ انسان کے لیے ممکن ہو گیا، تو یقین کا معاملہ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ خود علم انسانی کے ذریعے ہر شخص براہِ راست طور پر کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو دیکھے، اور اس کے ذریعے نیا یقین حاصل کر سکے۔
جدید سائنسی انقلاب نے خدا کی معرفت کا ایک نیا علمی دروازہ ہر انسان کے لیے کھول دیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ ہر انسان اپنے براہِ راست مطالعہ اور مشاہدے کے ذریعے تخلیق کے اندر موجود خالق کی شہادتوں، یعنی evidences، کو جان سکے۔ اس سائنسی انقلاب کے ذریعے جو خدائی نشانیاں، یعنی divine signs، انسان کے اوپر کھلیں، انہوں نے اعلیٰ خدائی معرفت کے حصول کو آخری حد تک انسان کے لیے ممکن بنا دیا۔ اللہ کے بہت سے بندوں کو اس سے معرفت حاصل ہوئی۔
مگر اس دنیا میں خیر کی قوتوں کے ساتھ شر کی قوتیں ہمیشہ سرگرم رہتی ہیں۔ اسی کو زرتشت، وفات 551 قبل مسیح، نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: "The world is a perpetual battle ground of good and evil forces. " چنانچہ عین اس وقت کچھ بڑے بڑے ذہن پیدا ہوئے، جن کے پیدا کردہ افکار عملاً انسان کو دوبارہ معرفتِ خداوندی سے دور کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئے۔ اس واقعے کی پیشگی خبر حدیث میں اس طرح دی گئی تھی کہ بعد کے زمانے میں ایک دجال، یعنی great deceiver، پیدا ہوگا جو لوگوں کو اپنی پرفریب باتوں سے گمراہی میں ڈال دے گا۔
یعنی بعض احادیث میں 30 دجالوں کا ذکر ہے۔ دجال یا دجالیت کیا ہے؟ اس سے مراد دراصل غلط تعبیر کی فکری گمراہی ہے، جو دورِ دجال میں زیادہ بڑے پیمانے پر ظاہر ہوگی۔ کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 11۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.