← Paiqhambar-e-InqilabPaiqhambar-e-Inqilab
دعوت کے مصالح
Urdu · 13 min
ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیںجو زمانہ کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں اور اپنی فطرت کی آواز پر کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ عرب معاشرہ میں بھی فطری سادگی اور ملت ابراہیمی کے بقایا کے نتیجہ میں ایسے متعدد لو گ تھے جو سچائی کی تلاش میںتھے اور بت پرستی کو نا پسند کرتے تھے۔ عرف عام میںان کو حنفاء کہا جاتاتھا۔ مثلاً قس بن ساعد ہ، ورقہ بن نوفل وغیرہ۔ ایسے ہی ایک شخص حنیف جند ب بن عمر والد وسی تھے۔ وہ زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
انَّ لِلْخَلْقِ خَالِقًا لَكِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ(الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني، جلد 3،صفحہ 424)۔یعنی یقیناً خلق(creation) کا کوئی خالق ہے، مگر میں نہیں جانتا وہ کون ہے۔
other sourceWords of another person or source
جب انہیں آپ کی بعثت کی خبر ملی تو وہ اپنی قوم کے 75آدمیوں کو ساتھ لے کر آئے اور سب نے اسلام قبول کر لیا (الاصابة في تمييز الصحابة، جلد3، صفحہ424)۔ ابو ذر غفاری بھی اسی قسم کے متلاشیوں (seekers)میں سے تھے۔ انہیں آپ کےبارے میں علم ہو ا تو اپنے بھائی کو مکہ بھیجا کہ آپ کی خبر لے کر آئے۔ بھائی نے واپس جاکر آپ کے بارے میں جو رپورٹ دی اس کا ایک فقرہ یہ بھی تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فرأيت رجلا يسمّيه الناس الصابئ هو أشبه الناس بك (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، جلد7، صفحہ107)۔يعني،میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کو لوگ بد دین کہتے تھے، وہ تم سے بہت زیادہ مشابہ تھا۔
other sourceWords of another person or source
ایسے لوگوں کو آپ کی دعوت سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئی۔
جب کسی معاشرہ میں دعوت کا آغاز ہوتا ہے تو اس کا بیج ایسے ایسے مقامات پر پڑتا ہے جس کا اندازہ خود داعی کو بھی نہیں ہوتا۔
عرب میں جو لوگ ’’دیر ‘‘ سے اسلام لائے۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ ان پر بالکل اچانک اسلام منکشف ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ اخلاقی زندگی، آپ کا شب و روز دعوت و تبلیغ میں مشغول رہنا، مخالفتوں کی وجہ سے آپ کا اور آپ کے پیغام کا مستقل چرچا جس کی وجہ سے ہرایک کےلیے آپ کا وجود ایک سوالیہ نشان بن گیاتھا۔ ان چیزوں نےبے شمار عربوں کےذہن میں اسلام کے بیج ڈال دیے تھے۔ قبائلی عصبیت اور اسلاف پرستی کی وجہ سے ایک شخص بظاہر ضد اور عناد میں مبتلا ہوتا۔ مگر اندر اند راسلام کی خاموش پر ورش کو بھی وہ روک نہ سکتا تھا۔ حضرت عمر کے اسلام کے بارے میں عام شہرت یہ ہے کہ اچانک ایک واقعہ آپ کےاسلام کا سبب بن گیا۔ آخری مرحلہ میں آپ کے اسلام کا محرک بلاشبہ یہی واقعہ تھا۔ مگر اس کےابتدائی بیج آپ کے دل میں بہت پہلے پڑچکے تھے
عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللهِ بِنْتِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَتْوَاللهِ إنَّا لَنَتَرَحَّلُ إلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَقَدْ ذَهَبَ عَامِرٌ فِي بعض حاجاتنا، إِذا أَقْبَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى وَقَفَ عَلَيَّ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ- قَالَتْوَكُنَّا نَلْقَى مِنْهُ الْبَلَاءَ أَذًى لَنَا وَشِدَّةً عَلَيْنَا- قَالَتْفَقَالَإنَّهُ لَلِانْطِلَاقُ يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ. قَالَتْفَقُلْتُنَعَمْ وَاللهِ، لَنَخْرُجَنَّ فِي أَرْضِ اللهِ، آذَيْتُمُونَا وَقَهَرْتُمُونَا، حَتَّى يَجْعَلَ اللهِ مَخْرَجًا . قَالَتْ فَقَالَ صَحِبَكُمْ اللهِ، وَرَأَيْتُ لَهُ رِقَّةً لَمْ أَكُنْ أَرَاهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ أَحْزَنَهُ- فِيمَا أَرَى- خُرُوجُنَا(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ342-43)۔يعني، ام عبداللہ بنت ابی حثمہ کہتی ہیں، خدا کی قسم ہم لوگ ملک حبش کی طرف کوچ کر رہے تھے اور میرے شوہر عامر اپنی بعض ضروریات کے لیے گئے ہوئے تھے۔ اتنے میں عمر بن الخطاب آگئے اور میرے پاس آکر کھڑے ہو گئے، وہ ابھی تک اسلام نہ لائے تھے۔ ہم لوگوں کو ان سے بڑی تکلیفیں اور سختیاں پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا، اے ام عبد اللہ ! کوچ ہورہا ہے۔ میں نے کہا ہاں، خدا کی قسم ہم لوگ اللہ کی زمین میں سے کسی زمین میں چلے جائیں گے۔ اس لیے کہ تم لوگ ہمیں ستاتے ہو اور ہمارے اوپر زیادتیاں کرتے ہو۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے لیے کوئی نکاسی کی جگہ پیدا کردے۔ ام عبد اللہ کہتی ہیں ۔ عمر نے کہا خدا تمہارا ساتھی ہو۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت پیدا ہو گئی جو میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد وہ چلے گئے اور ان کو ہمارے مکہ سےجانے کا بہت ملال تھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ہر زمانہ میں کچھ ایسے خیالات ہوتے ہیں جو عوامی ذہنوں میں جڑ پکڑ جاتے ہیں ۔ جب تک خیالات کی یہ دیوار نہ ٹوٹے کوئی آواز محض اپنی فلسفیانہ صداقت کی بنیاد پر ان کے اندر قبولیت حاصل نہیں کرسکتی۔ ابتدائی زمانہ میں اہل عرب کی طرف سے جس اختلاف کا مظاہرہ ہوا، وه محض ہٹ دھرمی یا مصلحت پر ستی کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ اس لیے تھاکہ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کعبہ کے متو لیوں کے سوا بھی کسی کا دین صحیح او ر برحق ہو سکتا ہے۔ جو عرب قبائل یہود کے پڑوس میں بسے ہوئے تھے وہ نسبتاً اس قسم کی اعتقادی پیچیدگی سے محفوظ تھے، کیوں کہ یہود سے وہ سنتے رہتے تھے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ عرب میں ایک نبی کا ظہور ہوگا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فَلَمَّا سَمِعُوا قَوْلَهُ أَنْصِتُوا، وَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى دَعْوَتِهِ وَعَرَفُوا مَا كَانُوا يَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ ذِكْرِهِمْ إِيَّاهُ بِصِفَتِهِ، وَمَا يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ، فَصَدِّقُوهُ وَآمَنُوا بِه(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر849)۔يعني، انصار کے لوگوں نے جب آپ کا کلام سنا تو وہ چپ ہو گئے، ان کا دل آپ کی دعوت پر مطمئن ہوگیا۔ انہوں نے اہل کتاب سے آپ کے جو اوصاف سنے تھے اور جس چیز کی طرف آپ نے ان کو بلایاتھا، ان کو پہچانا۔ انہوں نے آپ کی تصدیق کی او ر آپ پر ایمان لائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عکاظ کے میلے میں جب آپ بنو کندہ کےخیموں میں گئے اور ان کے سامنے اپنی بات پیش کی تو ایک نوجوان بول اٹھا
يا قوم! اسْبِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ تُسْبَقُوا إِلَيْهِ فَوَاللهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ لَيُحَدِّثُونَ أَنَّ نَبِيًّا يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُهُ (دلائل النبوة لأبي نعيم، حدیث نمبر 222)۔يعني، اے قوم، اس آدمی کا ساتھ دینے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ اور لوگ اس کی طرف سبقت کریں۔ خدا کی قسم، اہل کتاب کہہ رہے ہیں کہ حرم سے ایک نبی ظاہر ہوگا جس کا زمانہ قریب آگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مدینہ کے عرب قبائل، اوس اور خزرج کے ایما ن لانے میں پیش قدمی کرنے کی وجہ ان کا یہی ذہنی پس منظر تھا۔ تاہم مکہ کے لوگوں اور بیشتر عرب قبائل کے لیے صداقت کا معیار کعبہ کا اقتدار تھا۔ قدیم عرب میں کعبہ کی حیثیت وہی تھی جو بادشاہی نظام میں ’’تاج‘‘ کی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ تاج کے ساتھ صرف سیاسی اقتدار کا تصور وابستہ ہوتاہے، جب کہ کعبہ کے ساتھ اقتدار کے علاوہ تقدس کی روایات بھی کامل درجہ میں شامل تھیں۔ عام عرب اپنے سادہ ذہن کے تحت یہ سمجھتے تھے کہ جو کعبہ پر قابض ہو جائے وہی صداقت کا حامل ہے۔ بنوعامر کے ذو الجوشن الضبائی بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
يَا ذَا الْجَوْشَنِ، أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ أَهْلِ هَذَا الْأَمْرِ؟ ، فَقُلْتُلَا، قَالَ لِمَ؟ قُلْتُإِنِّي رَأَيْتُ قَوْمَك قَدْ وَلِعُوا بِك، قَالَ فَكَيْفَ بَلَغَك عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ؟ ، قُلْتُقَدْ بَلَغَنِي، قَالَفَإِنَّا نُهْدِي لَك، قُلْتُإِنْ تَغْلِبْ عَلَى الْكَعْبَةِ وَتَقْطُنْهَا، قَالَ لَعَلَّك إِنْ عِشْتَ تَرَى ذَلِك... قَالَ فَوَاللهِ إِنِّي بِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُمَا فَعَلَ النَّاسُ؟ قَالَقَدْ وَاللهِ غَلَبَ مُحَمَّدٌ عَلَى الْكَعْبَةِ وَقَطَنَهَا، فَقُلْتُهَبِلَتْنِي أُمِّي، وَلَوْ أُسْلِمُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا (مسند احمد، حدیث نمبر 16633)۔ يعني، اے ذو الجوشن تم اسلام کیوں نہیں لاتے کہ تمہارا شمار اولین لوگوں میں ہو جائے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا کیوں۔ میں نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ آپ کی قوم آپ کے پیچھے پڑگئی ہے۔ آپ نے فرمایا بدر میں ان کی شکست کے بارے میں تم نے کیا سنا۔ میں نے کہا ہاں، مجھے معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا ہم کو توتمہیں ہدایت کی بات بتانی ہے۔ میں نے کہا، ہاں بشر طیکہ آپ کعبہ کو فتح کر کے اس پر قابض ہو جائیں،آپ نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو دیکھ لو گے... اس کے بعد ایک روز میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے وطن غور میں تھا کہ ایک سوار آیا۔ میں نے پوچھا لوگوں کا کیا ہوا۔ اس نے کہا خدا کی قسم محمد نے کعبہ کو فتح کر لیا اور اس پر قابض ہو گئے۔ میں نے کہا میری ماں مجھے گم کرے، اگر میں نے اسی دن اسلام قبول کر لیا ہوتااورپھر محمد سے حیرہ مانگتا تو وہ ضرور دے دیتے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہی وجہ ہے کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو لوگ جو ق در جوق اسلام میں داخل ہوگئے۔ (النصر،110:2)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it