پیغمبر انقلاب
اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کا دین سر بلند ہو۔ اس کو دنیا میں غالب فکر کا مقام حاصل ہو۔ مگر دین کے فکری غلبہ کے لیے عالمی حالات کی موافقت ضروری ہے۔ خدا نے ہزاروں سال کے عمل سے پیغمبر آخر الزماں کے لیے موافق حالات پیدا کیے۔ آپ نے ان حالات کو جانا اور ان کو حکیمانہ طور پر استعمال کر کے اسلام کو دنیا میں غالب فکر کا مقام عطا کیا۔
اب دوبارہ پچھلے ہزار سال کے عمل کے نتیجہ میں خدا نے وہ تمام موافق حالات جمع کر دیے ہیں جن کو استعمال کر کے ازسر نو اسلام کو دنیا کا غالب فکر بنایا جاسکے۔ اسلام کو دوبارہ وہی بر تری اور سر بلندی حاصل ہو جو ماضی میں اسے حاصل تھی۔
مگر ان امکانات کو واقعہ بنانے کے لیے ایک ایسی سنجیدہ جدو جہد درکا ر ہے جو وقت کے گہرے شعور پر ابھری ہو۔ جو رد عمل کی نفسیات سے پاک ہو کر مثبت عمل کرنا جانتی ہو۔ جو ہر دوسرے احسا س کو قربان کر کے صرف دین کی سر بلندی کے لیے کو شش کرنے والی ہو۔ جو ربانی حکمت کی رہنمائی میں اٹھی ہو نہ کہ انسانی کج فہمیوں کی بنیاد پر۔ جس کا محرک خدا کی بڑائی قائم کرنا ہو نہ کہ قومی فخر اور مادی عظمت کا جھنڈا لہرانا۔ ایسے ہی لوگوں نے پہلے بھی خدا کے دین کو سربلند کیا تھا اور ایسے ہی لوگ آ ج بھی خدا کے دین کو سر بلند کریں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ سطحی نعروں پر بھیڑ جمع کرنے کو کام سمجھیں، جو ہر پیش آمدہ مسئلہ پر دوڑناشروع کردیں، وہ صرف خدا کے پیدا کیے ہوئے امکانات کو بر باد کریں گے۔ وہ ان امکانا ت کو واقعہ بنانے والے ثابت نہیں ہو سکتے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.