Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Paiqhambar-e-Inqilab
Paiqhambar-e-Inqilab

ابتدائیہ

Urdu · 18 min

امریکا سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے ’’ایک سو ‘‘ ۔اس کتاب میں ساری انسانی تاریخ کے ایک سو ایسے آدمیوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے، مصنف کے نزدیک، انسانی تاریخ پر سب سے زیادہ اثرات ڈالے۔ کتاب کا مصنف مذہبی طور پر عیسائی اور تعلیمی طور پر سائنس داں ہے۔ مگر اپنی فہرست میں اس نے نمبر ایک پر نہ حضرت مسیح کا نام رکھا ہے اور نہ نیوٹن کا۔ اس کے نزدیک وہ شخصیت جس کو اپنے غیر معمولی کار ناموں کی وجہ سے نمبر ایک پر رکھا جانا چاهيے، وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ آپ نے انسانی تاریخ پر جو اثرات ڈالے وہ کسی بھی دوسری شخصیت، خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، نے نہیں ڈالے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مصنف نے آپ کے کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے

He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels.

Dr. Michael H. Hart, The 100, New York 1978

آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کا میاب رہے۔ مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی۔

انگریز مورخ ٹامس کا رلائل (1795-1881ء)نے پیغمبر اسلام کو نبیوں کا ہیرو قرار دیاتھا۔ امریکن رائٹر مائیکل ہارٹ (Dr. Michael H. Hart, b. 1932) نے آپ کو ساری انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انسان قرار دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اتنی واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے ایک ’’ عقیدہ‘‘ کی حیثیت نهيں رکھتی۔ وہ ایک مسلّمہ تاریخی واقعہ ہے اور ہر آدمی جو تاریخ کو جانتا ہے، وہ مجبور ہے کہ اس کوبطور واقعہ تسلیم کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کوئی شخص اوپر نظر ڈالے تو اس کو ہرطرف آسمان چھایا ہو ا نظر آئے گا۔ اسی طرح انسانی زندگی میں جس طرف بھی دیکھا جائے، پیغمبر اسلام کے اثرات نمایاں طور پر اپنا کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ ساری بہترین قدریں اور تمام اعلیٰ کامیابیاں جن کو آج اہمیت دی جاتی ہے وہ سب آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے براہ راست یا بالواسطہ نتائج ہیں۔

مذہبی اداروں میں شخصیت پرستی کے بجائے خدا پرستی کس نے قائم کی۔ اعتقادیات کو توہمات کے بجائے حق کی بنیاد کس نے عطا کی۔ سائنس میں فطرت کی پرستش کے بجائے فطرت کو مسخر کرنے کا سبق کس نے دیا۔ سیاسیات میں نسلی شہنشاہیت کے بجائے عوامی حکومت کا راستہ کس نے دکھایا۔ علم کی دنیا میں خیال آرائی کے بجائے حقیقت نگاری کی طرح کس نے ڈالی۔ سماج کی تنظیم کے لیے ظلم کے بجائے عدل کی بنیاد کس نے فراہم کی۔ جواب یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں انسان کو پیغمبر اسلام سے ملیں۔ آپ کے سوا کوئی نہیں ہے جس کی طرف حقیقی طور پر ان کا رناموں کو منسوب کیا جاسکے۔ دوسرے تمام افراد آپ کے انقلابی دھارے کو استعمال کر نے والے ہیں نہ کہ اس کو وجود میں لانے والے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تاریخ کا سب سے بڑا انسان بنا کر انسانی نسل پر اپنا سب سے بڑا احسان فرمایا ہے۔ اس طرح آپ كو معلوم تاریخ میں ایک ایسا بلند ترین مینار بنا كر کھڑا کر دیاگیا ہے کہ آدمی جس طرف بھی نظر ڈالے وہ آپ کو دیکھ لے۔ جب وہ اپنے رہنما کی تلاش میں نکلے تو اس کی نظر سب سے پہلے آپ پر پڑے۔ جب وہ حق کا راستہ جاننا چاہے تو آپ کا بلند و بالا وجود اس کو سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کرے۔ آپ ساری انسانیت کے لیے ہادیِ اعظم کی حیثیت رکھتے ہیں، اسی لیے آپ کو اتنے بلند تاریخی مقام پر کھڑا کیاگیا ہے کہ کوئی آنکھ والا جب آنکھ اٹھائے تو آپ کو دیکھے بغیر نہ رہ سکے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خدا کے ایک پیغمبر تھے جس طرح دوسرے بہت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ قرآن کی صراحت کے مطابق، آپ کے مشن اور دوسرے پیغمبروں کے مشن میں اصلاً کوئی فرق نہ تھا، تاہم آپ کی ایک حیثیت مزید تھی۔ اور وہ یہ کہ آپ نبیوں کے خاتم تھے۔ دوسرے لوگ صرف رسول اللہ تھے، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی تھے (وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ) 33:40۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ دنیا چونکہ دارالا متحان ہے اور یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی دی گئی ہے، اس لیے یہاں پیغمبروں پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی گئی کہ وہ لوگوں کو بد لیں۔ ان پر صرف یہ ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے پیغام کو لوگوں تک واضح طور پر پہنچا دیںفَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (16:35)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر نبیوں کے خاتم کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ عملی انقلاب پیدا کر کے زمین کے بڑے رقبہ میں اپنی ایک امت بر پا کر ے تاکہ اس کی لائی ہوئی آسمانی کتاب کی مستقل حفاظت کا انتظام ہو سکے۔ اس عالم اسباب میں کتاب کی حفاظت کی کوئی دوسری صورت ممکن نہیں۔ اور اگر کتاب اِلٰہی محفوظ نہ ہو تو پیغمبروں کی آمد ختم نہیں ہو سکتی۔ گو یا دوسرے انبیاء صرف پیغمبر دعوت تھے اور آپ پیغمبر دعوت کے ساتھ پیغمبر انقلاب بھی۔

انسان کو اپنے عمل پر پورا اختیار حاصل ہے، مگر اس کو عمل کے انجام پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے جس سے انسان موجودہ دنیا میں دو چار ہے۔ اسی لیے خدا نے انسان کی رہنمائی کے لیے انتہائی حد تک کامل انتظام کیا ہے تاکہ دنیا کی عدالت میں کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔

اولاً انسان کو انتہائی درست ساخت پر پیدا کیاگیا اور اس کی فطرت میں صحیح اور غلط کی تمیز پیوست کر دی گئی۔ اس کے بعد اس کو ایک ایسی دنیا میں رکھا گیا جو کامل عدل کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے، تاکہ انسان جد ھر دیکھے ہر طرف اس کو خدا کا پیغام خاموش زبان میں سنائی دیتا رہے۔ اسی کے سا تھ مزید خصوصی انتظام یہ کیاگیا کہ ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں خدا کے رسول آئے اور ہر ایک کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حقیقت واقعہ سے باخبر کرتے رہے۔

آخری تد بیر کے طور پر اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ خود انسانی زندگی کی صورت میں ایک کامل مثال کھڑی کرے جو تمام انسانوں کے لیے ایک زندہ نمونہ کا کام دیتی رہے۔ مگر حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک پیغمبروں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی وجہ سے یہ کامل انسانی نمونہ تاریخ میں قائم نہ ہو سکا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کے وقت اس قسم کے ایک نبی کی بعثت کی دعا کی تھی۔ آپ کی دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم، خصوصی خدائی تائید کے ساتھ، اسی منصوبہ کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے۔

آپ نے نہ صرف شخصی زندگی کے اعتبار سے مطلوب انسان کا نمونہ دنیا میں قائم کیا۔ بلکہ اسی کے ساتھ خدا کے منصوبہ کے مطابق ہر قسم کے اجتماعی احوال بھی آپ پر گزرے، اور ہر حال میں آپ نے ربانی ہدایت پر قائم رہ کر بطور نمونہ دکھا دیا کہ كيسا انسان خدا کا مطلوب انسان ہے۔

آپ کے ذریعہ صرف یہی نہیں ہوا کہ خدا پر ستی کا انسانی نمو نہ دنیا میں قائم ہوا۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ نمونہ بھی قائم ہوا کہ حقیقی خدا پرستی کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔خدا سے خوف کس طرح دوسرے خو فوں سے آدمی کو نجات دیتا ہے۔ اشتعال انگیز مواقع پر خدا کی خاطر صبر کر لینا کس طرح کا میابی کا زینہ بنتا ہے۔ آخرت کے لیے دنیوی فائدوں کو چھوڑنا کس طرح بالآخر آدمی کو دنیا بھی دے دیتا ہے اور آخرت بھی۔ منفی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرنا کس طرح اس فتح مبین تک پہنچاتا ہے کہ دشمن بھی حامی اور دوست بن کر آپ کے ساتھی بن گئے۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے جو انبیاء آئے ان کی زندگی مدوّن تاریخ کا جزءنہ بن سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خالص علمی اور تاریخی اعتبار سے ان کی نبو تیں ثابت شدہ نبو تیں نہیں۔ حضرت مسیح قدیم رسولوں میں سب سے آخری رسول ہیں۔ مگر آپ کا معاملہ بھی تاریخی اعتبار سے یہ ہے کہ ایک مغربی مفکر کو یہ کہنے کا موقع ملا— تاریخی اعتبار سے خود یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا اس دنیا میں کبھی وجود بھی تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Historically, it is quite doubtfull whether Christ ever existed at all. (Bertrand Russell, Why I am not a Christian, London, 2004, p. 12)

other sourceWords of another person or source

مگر پیغمبر آخر الزماں کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ آپ کی حیثیت تاریخی طور پر اس قدر مسلّم ہے کہ آپ کے بارے میں جب ایک ہسٹورین قلم اٹھاتا ہے تو اس کو یہ الفاظ لکھنے پڑتے ہیں— محمد تاریخ کی پوری روشنی میں پیدا ہوئے

(Muhammad is) the only one of the world prophets to be born within the full light of history. (Philip K. Hitti, The Arabs: A Short History, London, 1960, p. 23)

other sourceWords of another person or source

آپ کے زندہ پیغمبر ہونے ہی کا یہ پہلو بھی ہے کہ آپ کو جو معجزہ دیا گیا وہ ایک زندہ اور قائم رہنے والا معجزہ تھا، یعنی قرآن۔ اگر آپ کو عام قسم کے معجزے دیے جاتے تو وہ آپ کی وفات کے بعد ختم ہو جاتے۔ جب کہ آپ کی نبوت آپ کی وفات کے بعد بھی پوری طرح باقی رہنے والی تھی۔ اسی خاص مصلحت کی بنا پر آپ کے لیے آپ کی لائی ہوئی کتاب کو معجزہ بنا دیا گیا۔ معجزہ اس حیران کن واقعہ کا نام ہے جس کی نقل کسی انسان کے بس میں نہ ہو۔ قرآن کی نقل کسی فرد یا کسی گروہ کے بس میں نہیں۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن ایک خدائی معجزہ ہے۔

پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو نسبتِ اظہار دی گئی تھی، یعنی دین کا آئڈیولوجیکل اظہار (ideological manifestation)۔ یہی نسبت آپ کے بعد آپ کے امتیوں کو بھی حاصل ہے۔ مگر یہ نسبت بلا تشبیہ، ویسی ہی ہے جیسے کسان کے بارے میں کہا جائے کہ اس کو نسبت زراعت حاصل ہے۔ کسان کو نسبتِ زراعت حاصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے وہ اسباب کا مل طور پر مہیا کر دیے ہیں جن کو صحیح طور پر استعمال کر کے کوئی کسان اپنے لیے لہلہاتی ہوئی فصل اگا سکتا ہے۔ اسی طرح پیغمبر اور آپ کی امت کے لیے نسبتِ اظہار یا نسبتِ غلبہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے خدانے وہ تمام حالات بہترین طور پر مہیا کر دیے ہیں جو دین کے غلبہ کے لیے اس عالم اسباب میں مطلوب ہیں۔ جب بھی ان کو استعمال کیا جائے گا تو اس کا نتیجہ یقینی طور پر مثبت شکل میں بر آمد ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت ابراہیم سے لے کر آپ کی بعثت تک ڈھائی ہزار سال کے اندر تمام موافق حالات بہترین طور پر جمع کر دیے گئے۔ آپ نے ہدایتِ خدا وندی کی پیروی کرتے ہوئے ان موافق حالات کو اویل (avail) کیا۔ اس کا نتیجہ عظیم الشان کامیابی کی صورت میں بر آمد ہوا۔

اب دوبارہ پچھلے چودہ سو سال کے عرصہ میں مختلف تاریخی تبدیلیوں اور علمی ارتقاء کے ذریعہ ہر قسم کے موافق حالات ہمارے حق میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ آج بھی پوری طرح یہ ممکن ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے لائے ہوئے دین کو غالب و سر بلند کیا جائے۔ مگر یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب کہ اس کے لیے وہ جدو جہد کی جائے جو قانون خداوندی کے مطابق کسی حقیقی نتیجہ کے ظہور کے لیے ضروری ہے۔ یہ شرط نہ پیغمبر کے لیے ساقط کی گئی اور نہ آپ کے امتیوں کے لیے وہ کبھی ساقط ہو سکتی ہے۔

حصّہ اول

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content