← Nashri-TaqreerenNashri-Taqreeren
رمضان کا روزہ
Urdu · 13 min
رمضان کے روزہ کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ روزہ تمہارے اوپر اس لیے فرض کیا گیا ہے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:182) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تقویٰ کا مطلب بچنا ہے۔ ایک خار دار راستہ ہو اور آپ اس سے بچتے ہوئے گزاریں تو یہ تقویٰ ہوگا۔ مومن کو دنیا میں اسی طرح بری چیزوں سے بچتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا ہے۔ اسی پر ہیز گارانہ روش کا نام تقویٰ ہے، اور رمضان کا مہینہ اسی تقوی کی ماہانہ تربیت کامہینہ ہے۔
روزہ میں کھانا اور پانی چھوڑنا ایک علامتی ترک ہے ۔ اصل میں جو چیز ترک کرنا ہے وہ تو خدا کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ غیر مصنوعات کا وقتی ترک اسی ممنوعات کے مستقل ترک کی مشق ہے۔ کیوں کہ جو آدمی اللہ کے لیے غیر ممنوع کو چھوڑنے پر راضی ہو جائے وہ ممنوع کو بدرجہ اولی چھوڑ نےپر راضی ہو جائے گا۔
اس دنیا میں آدمی کا جو امتحان ہے وہ یہی ہے کہ وہ حرام اور حلال میں فرق کرے ۔ وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا بنے۔ وہ آزاد زندگی کے بجائے پابند زندگی گزارے۔ اسی ذمہ دارانہ زندگی کی تربیت کے لیے روزہ کا طریقہ اہل ایمان کے اوپر فرض کیا گیا ہے۔
روزہ محض اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ اپنی حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جس آدمی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پرعمل کرنا نہ چھوڑا تواللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پانی چھوڑ دے (صحیح البخاری، حدیث نمبر1903)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے ایسا کیا کہ انھوں نے کھانے پینے کا روزہ رکھا۔ اور اسی کے ساتھ انھوں نے غیبت کا فعل کیا جو اسلام میں حرام ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ انھوں نے اللہ کی جائز کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا ، اور پھر اللہ کی ناجائز کی ہوئی چیز سے افطار کر لیا (مسند احمد، حدیث نمبر 23653)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
متقیانہ زندگی کو دوسرے لفظوں میں محتاط زندگی کہہ سکتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جواحتیاط کے تصور سے خالی ہو ۔ وہ بلا قید جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے ۔ دوسرا انسان وہ ہے جو احتیاط کے طریقہ کو اختیار کیے ہوئے ہو۔ وہ ایک محکم اصول کے تحت کسی روش کو اختیار کرے، اور کسی دوسری روش کو اختیار نہ کرے۔ یہی معاملہ متقی انسان کا ہے۔ متقی انسان مکمل طور پر ایک محتاط انسان ہوتا ہے ۔ وہ اپنے قول و عمل کو خدا کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے۔
روزہ آدمی کے اندر تقویٰ اور احتیاط کا یہی مزاج پیدا کرتا ہے ۔ رمضان کی ماہانہ تربیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پورے سال تک اس طرح زندگی گزارے کہ وہ مباحات کے لیے مفطر ہو ، اور ممنوعات کے لیے وہ صائم بن جائے۔
روزہ کے دوران آدمی کا صرف کھانا پینا نہیں چھوٹتا۔ اس کو اپنی بہت سی عادتوں کو چھوڑ نا پڑتا ہے۔ وہ اپنی خواہشوں پر روک لگاتا ہے۔ اس طرح وہ اس بات کی تربیت حاصل کرتا ہے کہ وہ کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ وہ کچھ چیزوں سے بچ کر دنیا میں زندگی گزارے روزہ اس پر ہینر گاری کی انتہائی تربیت ہے۔ روزہ رکھ کر آدمی یہ عہد کرتا ہے کہ جائز چیزیں تو درکنار، اگر اللہ کی مرضی ہو تو وہ جائز چیزوں کو بھی اللہ کی خاطر چھوڑ دینے کے لیے تیار ہے۔
رمضان کا مہینہ قمری کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اس مہینہ کو اسلام میں روزہ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رمضان کے مہینے کا روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ اور اس کی بہت فضیلت بتائی گئی ہے۔
امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ مگر روزہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا انعام دوں گا۔ بندہ میرے لیے اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی افطار کے وقت، اور دوسری خوشی اس وقت جب کہ وہ اپنے رب سے ملے گا۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوش بو سے بھی زیادہ اچھی ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ گالی دے اور نہ شور کرے۔ اور اگر کوئی آدمی اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ کہہ دے میں تو روزہ دار ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر1904؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1151)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رمضان کے مہینہ کو ایک حدیث میں صبر کا مہینہ(شہر الصبر) کہا گیا ہے(مسند احمد، حدیث نمبر 7577)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کا اتنا بڑا درجہ کیوں ہے کہ اس پر بے حساب اجر کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ صبر کی عبادت ہے۔ روزہ صبر کا عمل ہے۔ روزہ میں کھانا اور پینا چھوڑ کر آدمی علامتی طور پر یہ عہد کرتا ہے کہ دنیا میں وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے گا۔ وہ ہر حال میں اللہ کےحکموں پر عمل کرے گا، خواہ اس کے لیے اسے صبرو بر داشت کے مرحلہ سے گزرنا پڑے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں بتایا گیا ہے صبر کرنے والے بے حساب اجر پائیں گےإِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک تمام اعمال میں صبر کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ جس خدائی حکم کو انجام دینے کے لیے آدمی کو صبر کے مرحلہ سے گزرنا پڑے، وہ عمل اللہ کی نظر میں اتنا زیادہ محبوب ہو جاتا ہے کہ اس پر بے حساب انعام کا فیصلہ کر دیاجاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
روزہ کی خاص اہمیت اسی اعتبار سے ہے ۔ روزہ دراصل صبر کی تربیت ہے۔ روزہ کی عبادت آدمی کو اس بات کے لیے تیار کرتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو دبا کر اللہ کے حکم پرعمل کرے ۔ وہ اپنی ضرورتوں کو روک کر اللہ کی راہ میں چلے۔ وہ اپنے ذاتی تقاضوں کو نظر انداز کر کے اللہ کے دین کے تقاضے پورے کرے۔ روزہ چوں کہ صبر جیسی عظیم عبادت کی تربیت ہے ، اس لیےروزہ کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔
روزہ کے اس خاص پہلو کی بنا پر حدیث میں فرمایاگیا کہ روزہ دار کو چاہیے کہ اگر کوئی آدمی اس کو برا کہے تو وہ خود بھی اس کو برا نہ کہنے لگے۔ بلکہ اس کے اندر یہ احساس جاگنا چاہیے کہ میں تو روزہ رکھے ہوئے ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1894)۔ میں نے تو اپنے آپ کو صبر اور برداشت کے تربیتی کورس میں داخل کر رکھا ہے ۔ ایسی حالت میں اگر میں بے برداشت ہو کر جوابی کارروائی کروں تو گویا کہ میں نے اپنا روزہ توڑ دیا ، میں نے روزہ کے اصل مقصد کو باطل کر دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
روزہ کا بلاشبہ بہت بڑا ثواب ہے۔ مگر یہ بڑا ثواب اس شخص کے لیے ہے جس کا روزہ صبر کا روزہ بن جائے۔ جو روزے سے یہ سبق لے کہ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے مجھے نا خوش گوار باتوں کو برداشت کرنا ہے ۔ لوگوں کے کڑوے بول کا جواب مجھے میٹھے بول سے دینا ہے۔
لوگوں کی طرف سے اشتعال انگیزی کے واقعات ہوں تب بھی مجھے اپنے آپ کو مشتعل ہونے سے بچانا ہے ۔ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں کو اللہ کے خانہ میں ڈالتے ہوئے مجھے ہر ایک کے ساتھ ہر حال میں اچھا سلوک کرنا ہے۔
خدا کے حکم کی ایک تعمیل وہ ہے جو معمول کے حالات میں کی جائے۔ اس کی دوسری تعمیل وہ ہے جو غیر معمولی حالات میں کی جائے۔ معمول کے حالات کے مقابلہ میں غیر معمولی حالات میں کیا ہوا عمل ہمیشہ زیادہ عظیم ہوتا ہے۔ صبر ہی عظیم عمل ہے، اور روزہ اسی عظیم عمل کے لیے ایک ماہانہ تربیتی کورس۔
گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو خدا کا دین پورا کا پور اصبر کا دین ہے ۔ پور اقرآن صبر کی کتاب ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات میں کسی نہ کسی اعتبار سے صبر کا پہلو شامل ہے۔
موجودہ دنیا میں اسلامی زندگی اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غیر اسلامی زندگی کو چھوڑے گا اور اسلامی اصولوں پر اپنی زندگی کو چلائے گا۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر معاملہ میں آدمی کے سامنے دو امکانات ہوتے ہیں۔ کوئی شخص جب دینی زندگی اختیار کرتا ہے تو وہ در حقیقت ایک روش کو چھوڑ کر دوسری روش کو اختیار کرتا ہے۔ یہ ایک کو چھوڑنا اور دوسرے کو پکڑنا صبر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہر اسلامی عمل میں صبر کا پہلو لازمی طور پرشامل ہو جاتا ہے۔
اس دنیا میں آدمی کو شیطان کے راستہ سے ہٹ کر خدا کے راستہ پر چلنا ہے۔ اس کو نفس پرستی کی روش چھوڑ کر بے نفسی کی روش کو اختیار کرنا ہے۔ اس کو بے اصول زندگی کو ترک کر کے با اصول زندگی کو اپنانا ہے۔ اس کو بے قید طریقہ سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور پابند طریقہ پر قائم رہ کر زندگی گزارنا ہے۔ لوگوں سے معاملہ کرنے میں اس کو حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا ہے اور صرف حلال دائرہ میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔
ایک کو چھوڑنے اور دوسرے کو پکڑنے کے اس عمل کے لیے صبر کی ضرورت ہے ۔ روزہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر یہی صبر والی صفت پیدا کرتا ہے۔
نوٹ یہ تقریر 7افروری 1994کو آل انڈیا ریڈیو ،نئی دہلی، سے نشرکی گئی۔