Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

روزہ کیا ہے

Urdu · 6 min

روزہ کیا ہے۔ روزہ اپنے آپ پر قابو پانے کی تربیت ہے ۔ وہ سلف کنٹرول کی مشق ہے۔ سلف کنٹرول کی اس مشق کے لیے ایک ایسی چیز کو چنا گیا ہے جو انسان کی تمام ضرورتوں میں سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے۔ یعنی کھانا اور پانی ۔ رمضان کے مہینہ میں 30 دن تک صبح سے شام تک کا کھانا اور پانی چھڑایا جاتا ہے تاکہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو کہ وہ چاہنے کے باوجود کسی چیز کو چھوڑ سکے ۔ تاکہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ جب وہ یہاں کسی چیز کو لے تو اصول کی بنیاد پر لے ، اور جب کسی چیز کو چھوڑے تو اس کو بھی اصول کی بنیاد پر چھوڑے۔ اس کی چاہت اس کے شعوری فیصلہ کے تحت ہو نہ کہ شعوری فیصلہ سے آزاد ۔

روزہ کے مہینہ میں کھانا اور پانی کا ترک حقیقتاً ایک علامتی ترک ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خاص اوقات میں ایک خاص مدت تک بس کھانا اور پینا چھوڑ دینے سے روزہ کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اور اس کے بعد آدمی آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ نہیں۔ بلکہ روزہ میں کھانے اور پینے کا علامتی ترک زیادہ وسیع ترک کا آغاز ہے ۔ روزہ کے مہینہ میں ایک چیز کو چھوڑنے کی تربیت دے کر آدمی کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ بقیہ مہینوں میں وہ زیادہ وسیع پیمانہ پر تمام غیر مطلوب چیزوں کو چھوڑ دے ۔

آدمی ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ اس دنیا میں مختلف قسم کے مردوں اور عورتوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ ان سماجی تعلقات کے دور ان طرح طرح کے ناموافق حالات پیش آتے ہیں ۔ یہ حالات آدمی کے اندر اشتعال اور رد عمل کی نفسیات ابھارتے ہیں۔

ایسے اوقات میں آدمی کیا کرے اور کیا نہ کرے ، اسی کو بتانے کے لیے روزہ فرض کیا گیا ہے۔ روزہ کا سبق یہ ہے کہ آدمی ایسے مواقع پر سلف کنٹرول کا طریقہ اختیار کرے ۔ جب کبھی اس کے دل میں دوسروں کے خلاف غصہ آئے یا دوسروں کے خلاف اشتعال پیدا ہو تو وہ ایسے جذبات کو رو کے ، وہ ایسے جذبات کو اپنے اندر ہی اندر دبا لے۔ ایسے مواقع پر وہ اپنے مشتعل جذبات کو روکنے والا بنے نہ کہ ان کو ظاہر کر دینے والا ۔

اسی طرح آدمی کے اندر طرح طرح کے جذبات ہیں۔ مثلاً حرص، طمع ، حسد، گھمنڈ، فخر، خود غرضی وغیرہ ۔ یہ جذبات بجائے خود برے نہیں ہیں۔ کیوں کہ یہی جذبات ہیں جو آدمی کے اندر حرکت اور عمل پیدا کرتے ہیں۔ ان جذبات کو اگر جائز حدود کے اندر استعمال کیا جائے تو وہ مفید ہیں۔ اور اگر جائز حدود کی پروا کیے بغیر ان جذبات کو بے قید طور پر استعمال کیا جانے لگے تو وہ سماج کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں۔

روزہ اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی ان جذبات کو ان کی حد کے اندر رکھے۔ وہ اپنے ان جذبات کو ان کی واقعی حد کے اندر استعمال کرے ۔ وہ اپنے ان جذبات کے استعمال کی ایک حد مقرر کرے۔ وہ حدیہ ہے کہ یہ جذبات جب تک اپنے جائز مفاد کے لیے استعمال ہوں تو ان کا استعمال ٹھیک ہے۔ اور جب وہ اپنے جائز مفاد سے گزر کر دوسروں کو نقصان پہنچانے والے بن جائیں تو وہاں آدمی اپنے ان جذبات کو روک لے۔

روزہ کو حدیث میں صبر کا مہینہ کہا گیا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر7577)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ پابند زندگی گزارنے کی مشق ہے۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اس دنیا میں با اصول زندگی گزارے۔ وہ بے قید اور بے اصول زندگی گزارنے سے پر ہیز کرے۔ رمضان کے مہینہ میں تربیتی روزہ رکھنا ہے اور بقیہ مہینوں میں اسی تربیت کے مطابق زندگی گزارنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر کھانا اور پینا چھوڑے مگر وہ جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1903)۔

hadithQuotes a hadith

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کا ظاہر تو کھانا اور پینا چھوڑنا ہے۔ مگر روزہ کی اصل اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی جھوٹی باتوں کو اور دوسرے برے اعمال کو چھوڑ دے۔ روزہ دراصل برائیوں کو چھوڑنے کی تربیت ہے۔ کسی روزہ دار میں اگر روزہ کا ظاہری پہلو ہو مگر اس میں روزہ کا اندرونی اور اخلاقی پہلونہ پایا جائے تو ایسے آدمی کا روزہ اسلام میں معتبر نہیں ۔

نوٹ  آل انڈیا ریڈ یونئی دہلی سے 11فروری 1993کو نشر کیا گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content